خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 37

خطبات طاہر جلد ۲ 37 خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء نے لازماً جہنم میں جانا ہے مرنے سے پہلے اس نے اپنے بچوں کو اکٹھا کیا اور یہ نصیحت کی کہ دیکھو جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا کر خاکستر کر دینا، ایک ذرہ بھی میرے جسم کا جلے بغیر باقی نہ چھوڑنا اور جب سارا جسم خاک بن جائے تو اسے تیز آندھی والے دن اس طرح اڑا دینا کہ اس کا نشان بھی کہیں نہ ملے۔یا ایک روایت میں یہ بیان کیا ہے کہ پانی کی تیز دھار موجوں میں اس طرح بہا دینا کہ اس کا کوئی نشان باقی نہ رہے۔جب وہ مر گیا تو اس کے بچوں نے ایسا ہی کیا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ہواؤں اور پانیوں کو حکم دیا کہ اسکے جسم کے سب ذروں کو اکٹھا کر کے پھر اس کو اصل شکل میں تبدیل کر دو۔اس پر جب وہ خدا کے حضور حاضر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا : اے میرے بندے! تجھے کس بات نے مجبور کیا تھا کہ تو اپنے بچوں کو اس قسم کی وصیت کرے؟ اس نے کہا اے خدا! میں نے اتنے گناہ کئے تھے، مجھے تیرا اتنا خوف تھا کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اتنے گناہوں کے ساتھ تیرے حضور حاضر ہوں۔اللہ نے فرمایا اچھا! خوف وجہ تھی تو پھر میں تجھے معاف کرتا ہوں۔( بخاری کتاب التوحید۔ابن ماجہ کتاب الزهد باب ذكر التوبة ) ایک طرف یہ خدا ہے۔دوسری طرف اتناباریک بین ہے کہ انسان اور اس کے ارادوں کے درمیان حائل بیٹھا ہوا ہے۔ایک طرف حضور اکرم یہ خوف دلاتے ہیں تو حد کر دیتے ہیں کہ انسان ساری عمر کی نیکیوں پر بنا کرتے ہوئے بھی اپنی بخشش کی امید نہیں رکھ سکتا۔دوسری طرف گناہگاروں سے مایوسی دور فرماتے ہیں تو کمال ہو جاتا ہے۔یہ ہے نصیحت کرنے والا محمد مصطفی عملے جو ہمیں عطا ہوا۔پس جو نصیحت بھی آپ نے کی یا آپ کے نام پر کی جاتی ہے، جماعت احمدیہ کو اسے تخفیف کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے۔ان ساری باتوں کو سمجھ کر اپنے کپڑے صاف کریں کیونکہ آج صبغۃ اللہ کے بغیر دنیا کی نجات ممکن نہیں ہے اور صِبْغَةَ الله حضرت محمد مصطفی علیہ سے حاصل ہو سکتا ہے۔لیکن پہلے اپنے نفوس کو اس قابل بنائیں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ذریعہ اللہ کے رنگ آپ کی روح اور جسم کے ذرہ ذرہ پر حاوی اور مسلط ہو جائیں۔اگر یہ کجیاں ، یہ گندگیاں، یہ برائیاں اسی طرح ساتھ رہیں تو ان داغوں کے اوپر تو اللہ کے رنگ نہیں چڑھ سکتے۔اللہ تعالیٰ ہمیں صفات الہیہ کے رنگ میں رنگین ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔