خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 336
خطبات طاہر جلد ۲ 336 خطبہ جمعہ ۱۷/جون ۱۹۸۳ء پس رمضان شریف رحمتوں کا پیغام لے کر آیا ہے۔اگر خدا کی نافرمانی کے دروازے کھولے جا رہے ہیں تو اللہ کی فرمانبرداری کے دروازے آپ کو امن کی دعوت دیتے ہوئے واہور ہے ہیں اور آپ کو اپنی طرف بلا رہے ہیں۔مخالفت کے ہر موقع پر جماعت کو انتہائی صبر کا نمونہ دکھانا چاہئے۔ساری دنیا میں ایک بھی احمدی ایسا نہیں ہونا چاہئے ، خواہ وہ بچہ ہو یا بڑا ہو، مرد ہو یا عورت ہو جو بے صبری کا ایک معمولی سا بھی مظاہرہ کرے۔دنیا میں قوموں نے پہلے بھی قربانیاں دی ہیں اور خدا کے نام پر تو قربانی دینا الہی قوموں کے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ادنی ادنیٰ ذلیل ذلیل قو میں جو خدا کے تصور سے بھی نا آشنا ہیں بلکہ خدا کی ہستی کے خلاف علم بغاوت بلند کرتی ہیں وہ ادنی پیغامات کے لئے بڑی بڑی قربانیوں سے دریغ نہیں کرتیں۔ہم اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے ، اللہ کے نام اور اس کی عظمت کی خاطر اور محمد رسول اللہ علے کے قدموں سے وابستہ رہنے کے لئے بدرجہ اولی قربانیاں دیں گے اس لئے اگر ہم میں سے ہر ایک کا ٹا جائے اور پھینکا جائے تو اس کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے۔پس اگر اسلام کی زندگی ہماری ظاہری موت کا تقاضا کرتی ہے تو اے اللہ ! ہم مرنے کے لئے حاضر ہیں۔ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں۔دیکھو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دنیا میں ایسی دہر یہ قومیں بھی موجود ہیں جنہوں نے دہریت کے لئے قربانیاں دیں۔پچھلی جنگ عظیم میں روس نے جو قربانی دی ہے وہ بڑی حیرت انگیز ہے۔روس کا ایک کروڑ سپاہی میدان جنگ میں مارا گیا اور ایک کروڑ غیر سپاہی اس جنگ میں کام آیا۔پس اگر دنیا والے دنیا کی خاطر ایک کروڑ سپاہی میدان جنگ میں کٹوا سکتے ہیں تو محمد رسول اللہ علی کے دیوانوں کے لئے ایک کروڑ جائیں فدا کرنا کون سا مشکل کام ہے۔بڑے ہی غلط فہمی کا شکار ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں ڈرا کر ہمیں غلبہ اسلام کی مہم سے ہٹا دیں گے۔وہ نہیں جانتے کہ ہم کس سرشت کے لوگ ہیں، کس ضمیر سے ہماری مٹی اٹھائی گئی ہے۔حضرت محمد مصطفی ﷺ کے عشق سے ہمارا خمیر گوندھا گیا ہے اللہ کی محبت اور اس کی اطاعت ہمارے رگ وریشہ میں رچی ہوئی ہے اس لئے دنیا کا کوئی خوف ہمیں ڈرا نہیں سکتا۔ایک کروڑ احمدی خدا کے نام پر مرنے کیلئے تیار ہے۔ہمیں یقین ہے کہ اگر ایک کروڑ احمدیوں کو دشمنی سے مار دیا جائے تو اللہ تعالیٰ کروڑہا کروڑ ایسے بندے پیدا کر دے گا جو احمدیت کی طرف منسوب ہونے میں فخر سمجھیں گے اور احمدیت کے لئے مزید قربانیاں