خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 337
خطبات طاہر جلد ۲ 337 خطبہ جمعہ ۱۷/جون ۱۹۸۳ء دینے کے لئے تیار ہوں گے اس لئے یہ سودا نقصان کا سودا نہیں ہے۔مگر میں آپ کو یہ بتا دیتا ہوں کہ وہ لوگ جو خدا کی خاطر مرنے کے لئے تیار ہو جایا کرتے ہیں اللہ ان کو مرنے نہیں دیا کرتا آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا۔وہ قو میں جو اپنے اندر قربانی کی روح پیدا کر لیتی ہیں وہ زندہ رکھی جاتی ہیں اور ہمیشہ کی زندگی پانے والی قومیں بن جاتی ہیں۔ہمیشہ سے یہی ہوتا چلا آیا ہے اور یہی ہوتا رہے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ پس یہ رمضان المبارک بہت برکتوں والا مہینہ ہے، بہت بر وقت آیا ہے۔ایک طرف مخالف خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کھل رہے ہیں اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کی یہ پیاری آواز ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے کہ جس کی زندگی میں یہ مہینہ داخل ہو جائے گا اللہ کی رحمت کے دروازے اس پر کھولتا چلا جائے گا۔پس اس مہینہ کو اپنی زندگی میں داخل کر لیں خود اس مہینہ میں داخل ہو جائیں کیونکہ اس سے بہتر امن کی اور کوئی جگہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: عدد جب بڑھ گیا شورو فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں (درین صفحہ ۵۰) یہی وہ مضمون ہے کہ عدو جب شور و فغاں میں بڑھ گیا تو ہمیں اپنے پیارے رب کے حضور پناہ ملی اور جس طرح بچہ خوفزدہ ہو کر ماں کی گود میں گھستا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ماں اس کو چاروں طرف سے لپیٹ لیتی ہے اور کوئی وار ایسا نہیں ہو سکتا جو ماں پر پڑے بغیر بچے پر پڑ جائے، ویسا ہی نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھینچا ہے۔فرماتے ہیں: عدد جب بڑھ گیا شورو فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں ہم تو اپنے یار نہاں میں چھپے بیٹھے ہیں۔اے لوگو! اب کس پر وار کرو گے۔کوئی وار نہیں ہے جو اللہ پر پڑے بغیر مجھ تک پہنچے اور کوئی وار نہیں ہے جو اللہ پر پڑ سکے اس لئے جس کو خدا کی پناہ حاصل ہو اس کے لئے خوف کا کون سا مقام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کو سمجھیں تو حقیقت یہ ہے کہ ہر دنیاوی خوف سے