خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 200
خطبات طاہر جلد ۲ 200 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۳ء پڑھی جارہی ہو اور جہاں باجماعت نماز ممکن نہ ہو وہاں انفرادی نماز کا انتظام ہو، اس کو تمام شرائط کے ساتھ ادا کیا جائے ، توجہ کے ساتھ اور سوز و گداز کے ساتھ ادا کیا جائے تو اس سے اتنی بڑی طاقت پیدا ہو جائے گی کہ ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اس جماعت کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔کجا یہ کہ چند دھاگے اللہ تعالیٰ سے ملے ہوئے ہوں اور وہ جو طاقت حاصل کر رہے ہوں وہ ساری جماعت میں بٹ رہی ہو اور کجا یہ کہ ہر شجر کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوں اور ہر شجر کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کے پھل لگ رہے ہوں۔بڑ کے درخت جب بوڑھے ہو جاتے ہیں تو ان میں سے بعض کی شاخیں زمین کی طرف جھک جاتی اور جڑیں بن جاتی ہیں اور ایک تنے کی بجائے کئی تنے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جماعت احمدیہ کو عبادت کے معاملے میں بڑکا وہ درخت بن جانا چاہئے جس کی ہر شاخ سے جڑیں پھوٹ رہی ہوں اور زمین کی طرف جھک رہی ہوں اور براہ راست زمین سے طاقت لے کر آسمان کی رفعتوں میں اس طرح بلند ہو جائیں کہ ہر ایک کو ہمیشہ ہر حال میں اللہ کی رحمتوں کے، الہامات کے، کشوف کے اور وحی کے پھل لگ رہے ہوں اور ہر احمدی کو خدا کی تائید حاصل ہو رہی ہو۔یہ ایک عظیم الشان طاقت ہے دنیا اس کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے۔یہ تو اتنی عظیم الشان طاقت ہے کہ نبی جب اکیلا ہوتا ہے تو اللہ سے تعلق کے نتیجہ میں اس کو غالب کیا جاتا ہے اور خدا سے بے تعلق دنیا کو اس ایک کی خاطر مٹا دیا جاتا ہے۔کجا یہ کہ دنیا میں اسے تعلق رکھنے والے ایک کروڑ آدمی پیدا ہو جائیں۔ان میں سے ہر ایک اس بات کی ضمانت ہوگا کہ اس جماعت نے لازماً غالب آنا ہے اور تمام مخالفانہ طاقتوں نے لازماً شکست کھانی ہے۔ان میں سے ایک ایک اس قابل بن جائے گا کہ اس کی خاطر ساری دنیا کو مٹا دیا جائے گا اور اس کو زندہ رکھا جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آج سے انشاء اللہ مجلس مشاورت شروع ہو جائے گی۔ایسے اہم دینی اجتماعات کے موقعہ پر چونکہ نمازیں جمع کرنے کی اجازت ہوتی ہے اس لئے سابقہ روایات کے مطابق آج بھی انشاء اللہ جمعہ کی نماز کے ساتھ عصر کی نماز جمع کی جائے گی۔