خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 139
خطبات طاہر جلد ۲ 139 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۳ء ساتھ بنی نوع انسان کو ہدایت کی طرف بلانا شروع کر دے اور دنیا واقعہ متاثر ہوکر اسلام کی طرف آنے لگے تو اللہ تعالیٰ یقیناً ہلاکت اور تباہی کی مہلت کو بڑھا دے گا کیونکہ وہ عذاب میں جلدی نہیں کرتا۔اس کی رحمت ہر دوسری صفت پر غالب ہے۔اس لئے اگر آپ دنیا کو تبلیغ کریں اور پھر وہ اس تبلیغ کو سننے اور اسلام کی طرف مائل ہونے لگے تو آپ بلاخوف وخطر اور بغیر کسی اشتباہ کے اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ خطرات لاز مائل جائیں گے اور انسان کو خدا یہ موقع نہیں دے گا کہ وہ ہلاکت کے اتنے اہم اور خطرناک فیصلے کر سکے۔اگر ایسا نہ کیا گیا اور آپ نے اپنی ذمہ داری کو ادا نہ کیا تو پھر اس دنیا کے بچنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔یہ خیال کہ اسلام نے بہر حال غالب آنا ہے اس لئے لازم ساری دنیا بچائی جائے گی، اس کے اندر تھوڑی سی Fallacy، غلط فہمی اور ایک ابہام سا پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا کے انبیاء غالب تو ضرور آیا کرتے ہیں لیکن وہ غلبہ دو قسم کا ہوا کرتا ہے۔ایک غلبہ تو یہ ہے کہ ساری قوم یا اس کی اکثریت ایمان لے آئے اور ایک ایسا غلبہ کہ ایمان نہ لانے کے نتیجہ میں انسان کی اکثریت کو ہلاک کر دیا جائے۔یہ دونوں قسم کے غلبے ہمیں قرآن کریم میں ملتے ہیں اس لئے اس بارے میں بہر حال کوئی شک نہیں کہ اسلام لازما غالب آئے گا مگر اس کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جو لوگ اسلام کے پیغام کو نہ سنیں ان کو بہت وسیع پیمانے پر ہلاک کر دیا جائے اور پھر جو بچے ان پر اسلام غالب آجائے۔اب سوال یہ ہے کہ ہم نے کونسا غلبہ اپنے لئے پسند کرنا ہے؟ وہ غلبہ جو کم سے کم ہلاکت کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے یا وہ غلبہ جو زیادہ سے زیادہ ہلاکت کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے۔اگر تو حضرت نوح علیہ السلام ہمارے امام ہوتے تو ہمیں دوسرے غلبے کا حاصل ہونا کوئی بعید نہیں تھا اور کوئی تعجب کی بات نہیں تھی مگر ہمارے امام تو حضرت محمد مصطفی ﷺ ہیں جن کے غلبے میں کم سے کم جانی اختلاف اور نقصان ہوا ہے۔جو لوگ آنحضور ﷺ پر اسلام کو جبر سے پھیلانے کا الزام لگاتے ہیں اگر وہ تاریخ کے حقائق کو یکجا کر کے دیکھیں تو وہ حیران رہ جائیں گے کہ تمام انسانی تاریخ میں کبھی کسی انسان کو اتنا عظیم غلبہ بہت ہی کم جانی قربانی کے نتیجہ میں حاصل نہیں ہوا جو حضور اکرم ﷺ کو حاصل ہوا۔سارے عرب کے غلبہ کے نتیجے میں جو جانوں کی تلفی ہوئی ان کی تعداد سینکڑوں سے زیادہ نہیں بنے گی۔یعنی حضوراکرم مے کو جو غلبہ حاصل ہوا اس میں بہت کم جانی نقصان ہوا ہے۔صحابہ کی شہادتیں بھی شامل