خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 140
خطبات طاہر جلد ۲ 140 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۳ء کر لی جائیں اور دشمنوں کا قتل بھی شامل کر لیا جائے تب بھی تمام جنگوں کا جانی نقصان سینکڑوں سے آگے نہیں بڑھتا اور پھر بڑی بڑی قوموں کو جو فتح کیا گیا وہاں بھی نسبتاً انتہائی معمولی جانی قربانی اور نقصان کے نتیجہ میں عظیم الشان فتوحات نصیب ہوئیں۔پس ہمارے لئے جو مقصد حیات مقرر کیا گیا ہے وہ تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پیروی اور آپ کے نمونے پر انقلاب برپا کرنا ہے اس لئے ہلاکتوں والا انقلاب تو ہمیں سجتا نہیں ، ہمیں تو ایسا انقلاب چاہئے جو آنحضرت ﷺ نے دنیا میں بر پا کر کے دکھایا۔اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ہم غیر معمولی بیداری کے ساتھ کام کریں۔جو وقت کھویا جا چکا ہے وہ تو اب واپس نہیں آسکتا لیکن جو وقت ہمیں میسر ہے اس کا ایک ایک لمحہ ہمیں بہترین رنگ میں استعمال کرنا ہوگا اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہر احمدی بلا استثنا مبلغ بنے۔وہ وقت گزر گیا کہ جب چند مبلغین پر انحصار کیا جاتا تھا۔اب تو بچوں کو بھی مبلغ بننا پڑے گا، بوڑھوں کو بھی مبلغ بننا پڑے گا۔یہاں تک کہ بستر پر لیٹے ہوئے بیماروں کو بھی مبلغ بننا پڑے گا اور کچھ نہیں وہ دعاؤں کے ذریعہ ہی تبلیغ کے جہاد میں شامل ہو سکتے ہیں۔دن رات اللہ سے گریہ وزاری کر سکتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں اتنی طاقت نہیں ہے کہ ہم چل پھر کر تبلیغ کرسکیں اس لئے بستر پر لیٹے لیٹے تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ تو دلوں کو بدل دے۔ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھ لیں اور اس جذبے کے ساتھ کام شروع کر دیں تو مجھے سو فیصد یقین ہے کہ دنیا کی ہلاکت کی تقدیر اللہ کے فضل سے مل سکتی ہے۔دنیا کے اس ہلاکت سے بچنے کے متعلق بعد میں آنے والے مؤرخین مختلف وجوہات نکالیں گے۔کوئی کہے گا کہ امریکہ کے فلاں صدر نے فلاں حکمت کا کام کیا اس لئے دنیا ہلاکت سے بچ گئی ، کوئی یہ سوچے گا کہ روس کے صدر نے فلاں حکمت کا کام کیا یا صبر کا نمونہ دکھایا اس لئے دنیا ہلاکت سے بچ گئی، کوئی یہ خیال کرے گا کہ اہل یورپ کو اللہ تعالیٰ نے دانش عطا فرمائی تھی اور ان کی حکمتوں کے نتیجہ میں دونوں بلاک یعنی روس اور امریکہ سمجھ گئے اور لڑائی ٹل گئی اور بعض یہ سوچیں گے کہ شاید چین کی طاقت جو Develop ہو رہی تھی اور ترقی کر رہی تھی اس نے ایک ایسا رول Play کیا، ایسا کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں دنیا ہلاکت سے بچ گئی لیکن خدا کی تقدیر جانتی ہوگی اور بعد میں آنے والا انسان بھی اس بات کی گواہی دے گا کہ دنیا کی ہلاکت صرف اس باریک دھاگے پر لٹکی ہوئی تھی کہ وہ احمدیت