خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 53
خطبات طاہر جلد ۲ 53 خطبه جمعه ۲۸ /جنوری ۱۹۸۳ء خدا نے ان سے ان کے نفوس بھی خرید لئے ہیں اور ان کے اموال بھی خرید لئے ہیں۔بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ اور اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ انہیں جنت عطا فرمائے گا۔اس آیت کے کئی بطن ہیں اس لئے اس کی مختلف تفاسیر کی جاسکتی ہیں اور مختلف تو جیہات پیش کی جاسکتی ہیں لیکن اس موقعہ پر میں خصوصیت کے ساتھ اس بات کی طرف توجہ دلانے کے لئے یہ آیت پڑھ رہا ہوں کہ نفوس اور اموال دونوں اس سودے کا لازمی حصہ ہیں۔نہ محض نفوس اس سودے کی شرط کو پورا کریں گے نہ محض اموال اس سودے کی شرط کو پورا کریں گے۔پس ایسے لوگ جو عمل صالح کے دعویدار ہوں اگر ان دونوں چیزوں میں سے ایک کی بھی کمی آگئی تو ان کے عمل صالح میں نقص پڑ جائے گا اور اسی نسبت سے ان کی دعوت الی اللہ میں بھی نقص پیدا ہو جائے گا۔جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمد یہ تمام دنیا کی جماعتوں میں خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں یا کسی سیاست سے تعلق رکھتی ہوں ایک نمایاں امتیاز کے ساتھ پیش پیش ہے۔جہاں تک نفوس کی قربانی کا تعلق ہے بلا شبہ اس پہلو سے بھی جماعت احمد یہ دنیا کی دوسری جماعتوں سے آگے ہے۔اگر چہ دوسری جماعتوں کی قربانی کے معیار مختلف ہیں لیکن ہماری قربانی کے معیار ان سے بالکل مختلف اور بلند تر ہیں اور اتنے بلند ہیں کہ ان کی قربانی کے معیار کے مقابل پر ہماری قربانی کے معیار کو وہی نسبت ہے جوز مین کو آسمان سے ہوسکتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر مومن سے سودا کیا ہے۔وہ ایک جماعت کے چند نفوس پر راضی نہیں ہوتا، چند بلانے والوں پر راضی نہیں ہے بلکہ مسلمان کی تعریف میں اس بات کو داخل فرما دیا کہ اگر تم مسلمان ہو تو تمہیں لاز مأخدا کی طرف بلانا پڑے گا اور تمہیں اپنے اسلام کو چھپانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اگر تم اسلام کو چھپا کر خدا کی طرف بلاؤ گے تو خدا کے نزدیک تمہارا یہ قول قول حسن نہیں رہے گا۔پس اسلام کی قربانی کا معیار تو اتنا بلند اور اتنا وسیع ہے کہ ایک فرد بشر میں جو اپنے آپ کو ان لوگوں میں داخل کرنا چاہے جن کا قول خدا کے نزدیک حسین ہو جایا کرتا ہے، اسے قربانی کے دونوں معیار پر پورا اترنا چاہئے۔یعنی مالی قربانی کے لحاظ سے بھی عمل صالح ہو اور نفس کی قربانی کے لحاظ سے بھی عمل صالح ہو۔اس سے یہ ثابت ہوا کہ ہر مسلمان کے لئے نفس کی قربانی لازمی ہے اور دعوت الی اللہ بھی لازمی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر انسان اپنے دوسرے کاموں میں مشغول اور اپنی زندگی کی بقا