خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 52
خطبات طاہر جلد ۲ 52 خطبه جمعه ۲۸ / جنوری ۱۹۸۳ء طرف بلائے اگر اس کا عمل مکر وہ ہو تو اسکے قول کا حسن بھی جاتا رہتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے عمل صالح کی شرط ساتھ لگا دی اور اس کے ساتھ ایک اور شرط بھی لگادی فرمایا وَ قَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ساتھ ہی پھر یہ دعوی بھی کرے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں کیونکہ اگر خدا کی طرف بلانے والا ہو اور بظاہر عمل صالح بھی رکھتا ہو لیکن اگر وہ اسلام کی طرف دعوت نہیں دیتا اور خود کو مسلمانوں میں سے قرار بھی نہیں دیتا تو یہ تیسری شرط باطل ہو جائیگی اور قول حسن کو بھی ساتھ ہی باطل کر دیگی۔غرض ہر وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ کی نظر میں ایک حسین داعی الی اللہ کا کردار ادا کرنا ہے اور ہر وہ شخص جو یہ چاہتا ہے کہ جب میں بلاؤں تو خدا کے پیار کی نظریں مجھ پر پڑیں اور میرا قول حسین ہو جائے اس کے لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق یہ تین شرطیں لازم ہیں۔وہ بلائے اپنے رب کی طرف اپنی خواہشات کی طرف نہ بلائے ، اپنے ذاتی مقاصد کی طرف نہ بلائے اور خدا کے نام پر بلا کر پس پردہ کچھ اور مقاصد نہ رکھتا ہو، خالصتاً اللہ کے لئے بلا رہا ہو۔مثلاً جماعت احمد یہ دنیا کو خدا کی طرف بلا رہی ہے۔اگر کسی جگہ اس دعوت الی اللہ کا مقصد یہ ہے کہ ہماری تعداد بڑھ جائے اور ہم دنیاوی غلبہ حاصل کر لیں تو یہ اللہ کی طرف بلانا نہیں رہے گا۔ہماری دعوت محض اللہ کے لئے ہے اس لئے ہر احمدی کو چاہئے کہ اللہ کے سوا کوئی اور مقصود اس میں شامل نہ کرے تا کہ یہ بات اس دعوی کو گندا نہ کر دے۔نہ کوئی ذات اس کا مقصود ہو اور نہ کوئی جماعت، نہ کوئی اور الہ اس کا مقصود ہو اور نہ کوئی خواہش ، وہ خالصتا اللہ کی طرف بلا رہا ہو اور اس کا عمل صالح اس بات کی تصدیق کرے کہ ہاں اپنے رب ہی کی طرف بلا رہا ہے۔عمل صالح کیا ہے؟ اس سلسلہ میں رب کی طرف بلانے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایک سودے کا اعلان فرمایا ہے۔اور اس نسبت سے عمل صالح کا خلاصہ اس سودے کے بیان کے اندر پیش فرما دیا گیا۔فرمایا: اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبة: (1) کہ وہ لوگ جو میرے ہو گئے ، جو میری طرف بلانے والے لوگ ہیں، جو خالصتا مجھ سے ایک سودا کر چکے ہیں ، ان کا سودا یہ ہے کہ اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ