خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 552
خطبات طاہر جلد ۲ 552 خطبه جمعه ۲۸ را کتوبر ۱۹۸۳ء خطرہ ہے۔افریقن قوموں کے لئے بھی جو جنگلوں میں رہتے ہیں اور وہیں سے ان کی غذا مہیا ہوتی ہے ان کے لئے بھی قحط سالی کا خطرہ ہے اور جو لوگ شہروں میں رہ رہے ہیں ان کی بھی بہت بری حالت ہے۔ان حالات میں غانا کی جماعتوں کے چندے میں ساڑھے پانچ گنا اضافہ ایک غیر معمولی اور بہت بڑا قدم ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے اور یہ دعا کرنی چاہئے کہ اس نیکی کے بدلہ میں اللہ تعالی سارے ملک پر رحم فرمائے۔یہ جتنے بھی اضافے میں نے بیان کئے ہیں ضروری نہیں کہ جس نسبت سے اضافہ ہوا ہے اسی نسبت سے اخلاص میں بھی ترقی ہوئی ہو یا اخلاص کے اندر بھی وہی نسبت پائی جاتی ہو۔یہ اندازہ لگانا یہ اربعے لگانا درست نہیں کیونکہ مختلف ممالک مختلف اقتصادی پلیٹ فارمز پر کھڑے ہیں، ان کی اقتصادی حالت ایک جیسی نہیں ہے۔چنانچہ پہلے مختلف ممالک کی قربانی کا معیار مختلف تھا۔بعض ایسے ممالک تھے جو تحریک جدید میں پہلے ہی بڑی اچھی اور نمایاں قربانی کر رہے تھے۔مثلاً انگلستان کی جماعتیں ہیں ان کے چندے میں تین گنا کا اضافہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے مگر اس کے مقابل پر بعض جماعتیں چندوں میں بہت پیچھے تھیں ان کا اگر دس گنا بھی اضافہ ہو گیا ہے تو یہ مطلب نہیں ہے کہ انگلستان کے مخلصین کے مقابل پر ان کا اخلاص بھی اتنے گنا زائد ہے۔یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان چندوں کے پیچھے کس جماعت کو کتنی قربانی کی توفیق ملی اور ان کے اخلاص کی قیمت خدا کی نظر میں کیا ہے۔ہم تو محض خدا کے احسانات کا تصور باندھنے کی خاطر یہ تخمینے پیش کرتے ہیں اور یہ نسبتیں قائم کرتے ہیں تا کہ مختلف زاویوں سے ہم اللہ کے فضلوں کا نظارہ کریں اور دل اس کی حمد سے بھرتا چلا جائے۔ورنہ اگر نسبتوں کا تصور باندھا جائے تو اس لحاظ سے تو پھر تحکیم دنیا کی سب سے بڑی مخلص جماعت بنے گی کیونکہ ان کا اضافہ ساڑھے چالیس گنا ہے۔بات یہ ہے کہ پہلے وہاں مبلغ نہیں تھا، چند احمدی تھے اور وہ بھی بکھرے ہوئے تھے ، ان کی تربیت کا کوئی انتظام نہیں تھا۔چندوں میں بھی وہ بہت پیچھے تھے اس لئے یہ ان کا پہلا قدم ہے اور پہلے قدم میں ان کو چھیالیس منزلیں طے کرنے کی توفیق ملی ہے۔آئندہ سال جب یہ شرحیں تقریباً برابر ہو جائیں گی تو پھر بیرونی ممالک کی جماعتوں کا اصل مقابلہ شروع ہوگا۔جب بیرونی جماعتیں قریباً ایک ہی سطح پر آجائیں گی تو پھر دیکھیں گے کہ کون سی جماعت آگے بڑھتی ہے۔مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہر جگہ برابر کوشش ہوگی۔