خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 449 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 449

خطبات طاہر جلد ۲ 449 خطبه جمعه ۲۶ راگست ۱۹۸۳ء داخل ہوئے تھے لیکن ایڑیاں اٹھانے سے تو قد اونچے نہیں ہو جایا کرتے اور نہ انسان جوان ہو جاتا ہے۔اس کمزوری کی حالت میں عرب کا ایک مشہور پہلوان جوفنون حرب کا چوٹی کا ماہ سمجھا جاتا تھا وہ آیا اور اس نے کہا کہ میں بھی مسلمانوں کی طرف سے شامل ہو کر اہل مکہ کے خلاف لڑنا چاہتا اس کی کچھ دشمنیاں تھیں جو اتارنا چاہتا تھا۔اب وہ شخص جس نے خدا کو مولا نہ بنایا ہوہ شخص جس کا کامل تو کل اپنے رب پر نہ وہ یہ جواب دے ہی نہیں سکتا جو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے دیا۔آپ نے صحابہ سے فرمایا اس کو واپس کر دو مجھے خدا کے معاملہ میں کسی مشرک کی ضرورت نہیں ہے۔(مسلم کتاب الجھاد باب کراھیتہ الاستعانته المشرک) کتنی شدید ضرورت تھی ، عام حالات میں انسان خوش ہو جاتا ہے الحمد للہ ایک مدد گار مل گیا ہے اور نفس یہ بھی بہانہ بنالیتا ہے کہ خدا نے بھیجا ہے، عین ضرورت کے وقت چیز آئی ہے خدا نے بھیجی ہوگی لیکن وہ کامل موحد جو تو کل کے مضمون کو جانتا تھا جو جانتا تھا کہ خدا کے سوا میرا کوئی مولیٰ نہیں ہے، اس نے یہ جواب دیا کہ نہیں مجھے کسی مشرک کی ضرورت نہیں۔یہ وہ مضمون ہے جس تک پہنچنے کے لئے سچائی کی ضرورت ہے تقویٰ کی ضرورت ہے سچے دل سے آپ اپنے رب کے بنیں گے تو وہ مولیٰ بنے گا۔اگر منہ کی باتیں ہوں گی تو نہیں بنے گا۔دوستی کے حق ادا کرنے کوئی مشکل نہیں ہیں۔خدا سے پیار کا تعلق بڑھانا پڑے گا اور یہ آسان منزلیں ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا یہ ساری دعائیں ہمیں بتا رہی ہیں یہ نہایت ہی آرام دہ سفر ہے۔عفو سے مغفرت میں آپ داخل ہوئے پھر رحم میں داخل ہو گئے اور آخر پر مولی کہہ کر سارا بوجھ ہی خدا پر ڈال دیا اس سے زیادہ بھی کوئی آسان سفر ہو سکتا ہے لیکن بد قسمت ہے انسان جو یہ سفر بھی اختیار نہیں کرتا۔اس میں جذبات کا رخ خدا کی طرف موڑنا پڑتا ہے، بچے پیار کا تعلق اپنے رب سے پیدا کرنا پڑتا ہے، اس سے سچی محبت کرنی پڑتی ہے، اس کو اپنے وجود پر غالب کرنا پڑتا ہے جب تک یہ باتیں نصیب نہ ہوں اس وقت تک یہ سفر بظاہر آسان ہونے کے باوجود بھی انسان اختیار نہیں کر سکتا اس لئے اپنی ذمہ داریوں کو محوظ رکھیں۔بے انتہا کام ہیں ناممکن ہے کہ جماعت اپنی ان طاقتوں سے جو بظاہر اس کی سرشت میں خدا کے علاوہ ہیں ان طاقتوں کے ذریعہ وہ دنیا میں ان ذمہ داریوں کو ادا کرسکیں۔نوے سال ہو گئے ، اس ملک میں یا اس برصغیر میں جماعت کو قائم ہوئے اور اپنی طاقتیں جن میں خدا کے بہت سے فضل شامل ہیں وہ ملا کر بھی آج ہماری یہ کیفیت ہے کہ اس ملک میں ہمیں اپنے آپ کو