خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 196

خطبات طاہر جلد ۲ 196 خطبه جمعه یکم اپریل ۱۹۸۳ء وہاں سے تو لبیک کہہ دو۔ایک بدقسمتی کے نتیجے میں دوسری بد قسمتی کیوں مول لیتے ہو؟ یہ تھا حضور اکرم ﷺ کی تعلیم کا طریق اور کجا یہ کہ ہر طرف سے اذانوں کی آوازیں آ رہی ہوں اور نمازوں کی طرف بلایا جا رہا ہو لیکن کارکنان سلسلہ یا ممبران مجلس عاملہ یا سلسلہ کے دیگر کارکنان خاموشی سے سن رہے ہوں جیسے کسی اور کو بلایا جارہا ہے۔بہرے کی اور کیا تعریف ہے: صُمٌّ بُكُم عَى فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ) (البقره: ۱۹) کے روحانی معنی تو یہی ہیں کہ وہ سنتے ہیں اور نہیں سنتے۔دیکھتے ہیں اور نہیں دیکھتے اور جو سنتے اور دیکھنے کی طاقت سے محروم ہو جائے وہ ہر لحاظ سے بالکل بے معنی جانور کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔نہ اس کو بولنے کی طاقت ہے، نہ سمجھنے کی طاقت ہے اس لئے عبادت کا حق ادا کرنا نہایت ہی اہم ہے۔اب میں مضمون کی طرف واپس آتے ہوئے کارکنان سلسلہ سے کہتا ہوں کہ تین مہینے کے اندر اندر یہ فیصلہ کر لیں کہ سلسلے کی ملازمت کرنی ہے یا نہیں۔جہاں تک ان کے اس فیصلے کا تعلق ہے اس میں وہ آزاد ہیں۔وہ جو فیصلہ بھی کریں ان کی مرضی ہو گی لیکن اگر وہ عبادت کی خاطر عبادت کریں نہ کہ ملازمت کی خاطر اور اللہ سے تعلق قائم کرنے کی خاطر نماز پڑھیں تو یہی سب سے اچھا سودا ہے اور سلسلے کو ایسے ہی کارکنوں کی ضرورت ہے لیکن اگر وہ کسی وجہ سے یہ فریضہ ادا نہیں کر سکتے تو ہمیں احسان کے ساتھ ان کو الگ کرنا ہوگا۔ان کی فہرستیں بن جانی چاہئیں اور ان سے معاملہ طے ہو جانا چاہئے۔جدائی میں احسان بہر حال ضروری ہے اس لئے ان کے حقوق ان کو ادا ہونے چاہئیں۔افہام و تفہیم کے ساتھ احسن رنگ میں ان کو کہا جائے کہ ہمیں مجبوری ہے کہ ہم تمہیں علیحدہ کر رہے ہیں لیکن اس علیحدگی میں تمہیں ثواب ہو گا اس وقت تم سلسلے پر بار بنے ہوئے ہو پھر سلسلے کا بوجھ ہلکا کر دو گے۔بقیہ حاشیہ ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک نابینا حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا آدمی میسر نہیں جو مجھے مسجد تک لے کر جایا کرے۔اس لئے مجھے اجازت مرحمت فرمائی جائے کہ میں اپنے گھر میں ہی نماز ادا کرلیا کروں۔چنانچہ حضور نے اجازت دیدی لیکن جب وہ اٹھ کر واپس جانے لگا تو حضور نے اسے بلایا اور دریافت فرمایا کیا تمہیں نماز کی طرف بلانے کی آواز آتی ہے؟ اس نے عرض کی 'ہاں یا رسول اللہ تو حضور نے فرمایا فَا جب پھر جواب دیا کرو۔یعنی نماز کے لئے مسجد میں حاضر ہوا کرو۔