خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 159

خطبات طاہر جلد ۲ 159 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۳ء اعلان کرنا پڑے کہ خاندانی یونٹ کو تو ڑ کر جماعتی قیام گاہوں میں چلے آؤ لیکن یہ ایک استثنائی صورت ہے جو کسی وقت بھی پیدا ہو سکتی ہے اور پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے مثلاً بارش کی وجہ سے ہمیں مجبوراً بعض اوقات یہ اعلان کرنا پڑا کہ جو خیمے خاندانوں کو الاٹ کئے گئے ہیں وہ اب ان کے لئے نہیں رہیں گے کیونکہ ان میں کم تعدا دسما سکتی ہے اس لئے عورتیں الگ ہو جائیں اور مردا لگ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے فور تعاون کیا۔بہر حال ایسے حالات میں اب بھی یہی ہوگا لیکن بالعموم اس رجحان کواب ہم بدل نہیں سکتے۔اس لئے جماعت کے وہ دوست جو انفرادی طور پر مہمان رکھنا چاہتے ہیں جیسا کہ وہ ہمیشہ سے بڑے شوق کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کو اپنے ہاں ٹھہراتے رہے ہیں ، ان کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔وہ مہمان جن کو انفرادی طور پر گھروں میں ٹھہرایا جاتا ہے دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جو ذاتی تعلقات کی بنا پر اپنے دوستوں یا عزیزوں کے ہاں ٹھہرتے ہیں۔میں ان کی بات نہیں کر رہا میرے ذہن میں اس وقت وہ مہمان ہیں جن کے ساتھ بعض گھر والوں کے کسی قسم کے ذاتی مراسم نہیں ہوتے۔بعض اوقات تو انہوں نے ان کا نام بھی نہیں سنا ہوتا لیکن وہ اپنے گھر کے بعض کمرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خاطر نظام کے سپرد کر دیتے ہیں تا کہ وہ دوست جو نازک طبع ہوتے ہیں اور جماعتی قیام گاہوں میں نہیں ٹھہر سکتے وہ ان کے گھروں میں ٹھہریں۔بعض دفعہ غیر ملکی مہمانوں کے لئے ان کے معاشرے کے مطابق فلش سسٹم وغیرہ کی جدید سہولتیں مہیا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ یہ تحریک کی گئی اور اب ربوہ میں بہت سے ایسے دوست ہیں جنہوں نے محض اس نیت سے اچھے غسل خانے بنوائے ہیں تا کہ جب سال به سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان یہاں تشریف لائیں تو وہ ان کو ایسے کمرے پیش کر سکیں جن کے ساتھ ان کی سہولت اور مزاج کے مطابق مغسل خانے بھی ہوں۔پس پرائیویٹ قیام گاہوں میں اجتماعی نظام کے تابع مہمان ٹھہرانے کی ضرورت کے پیش نظر بہت زیادہ بوجھ پڑنے والا ہے۔اس کے دو ہی حل ہیں جو میرے ذہن میں آرہے ہیں۔اول یہ کہ جن لوگوں کے مکان ربوہ میں بن چکے ہیں ان کو یہ تحریک کی جائے کہ انہیں ضرورت ہو یا نہ ہو،