خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 4
خطبات طاہر جلد ۲ 4 خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۸۳ء نصیحت کرے تمہارے دل میں اس کی عزت ہے یا اسکے لئے تحقیر پائی جاتی ہے ، تمہارے دل میں اس کے لئے خواہ نفرت ہے خواہ محبت پائی جاتی ہے، آنحضرت ﷺ کی طرف اگر تم منسوب ہوتے ہو تو نصیحت کی بات کو دیکھو، یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے۔جب یہ جذبہ ہو جاتا ہے تو پھر نصیحت میں جو نوافل ہیں ان پر عمل کرنے کی بھی توفیق ملتی ہے۔نصیحت میں کچھ فرائض ہیں جن کا عدل کے ساتھ تعلق ہے، کچھ نصیحت میں نوافل ہیں۔پس جن لوگوں کو نصیحت کے عدل کی توفیق ملتی ہے اللہ تعالیٰ ان کو نوافل کی اس رنگ میں تو فیق عطا فرماتا ہے کہ جب ایسے لوگوں کی طرف سے بات ملے جن کے لئے دل میں زیادہ محبت اور زیادہ احترام پایا جاتا ہےتو وہ یہ نہیں دیکھا کرتے کہ یہ بات کہنے کا حق بھی ہے یا نہیں یا ہم پر فرض بھی ہے یا نہیں۔منہ سے بات نکلتی ہے اور اسے پورا کر دیتے ہیں مثلاً آنحضرت علی ایک دفعہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو باہر سے آنے والے کچھ (اب بھی جس طرح دیر سے آرہے ہیں اس طرح ) لوگ مسجد میں پہنچ رہے تھے۔کچھ لوگ مسجد نبوی میں پیچھے کھڑے تھے آنحضور علی لے نے ارشاد فرمایا کہ بیٹھ جائیں۔چنانچہ باہر سے آتے ہوئے ایک شخص کے کان میں یہ آواز پڑی تو وہ بیٹھ گیا اور پرندوں کی طرح پھوک پھدک کر مسجد کی طرف چلنے لگا۔ایک اور آدمی پاس سے گزر رہا تھا اس نے جب یہ حیرت انگیز منظر دیکھا، اس کو ہنسی بھی آئی ہوگی ، اس نے کہا تمہیں کیا ہو گیا ہے یہ کیا حرکتیں کر رہے ہو۔اس نے جواب دیا میرے کان میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی آواز پڑی ہے کہ بیٹھ جاؤ تو میں بیٹھ گیا ہوں۔اس نے کہا آپ نے تو مسجد والوں کو فرمایا ہوگا ، یہ تو نہیں فرمایا کہ جو راستوں میں چل رہے ہیں وہ بھی بیٹھ جائیں۔اس نے جواب دیا میں نے یہ نہیں سنا کہ کس کو کہا تھا میرے کان نے تو بیٹھ جاؤ کی آواز سنی ہے اور میں بیٹھ گیا ہوں۔( ابوداؤ د کتاب الصلوۃ باب الامام يكلم الرجل في خطبتم ) پس اگر کوئی قوم ادنی بنیادی مقامات پر قائم ہو جائے تو پھر اطاعت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کی اسے توفیق ملتی ہے۔اس کے بہت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔حضور اکرم ﷺ کی چھوٹی چھوٹی نصیحتوں میں بھی قوموں کے عظیم الشان ترقی کے راز ہیں۔اگر آپ کے غلام ان کی طرف توجہ نہ کریں اور ان پر غور کرنا چھوڑ دیں تو بہت بڑی نعمتوں سے محروم ہو جائیں گے۔اس لئے جماعت احمدیہ کو چاہئے کہ نصیحت کے معاملہ میں اس بات کو ہمیشہ مد نظر رکھے کہ اصل نصیحت وہی ہے