خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 54
خطبات طاہر جلد ۲ 54 خطبه جمعه ۲۸ / جنوری ۱۹۸۳ء کی جدو جہد میں مبتلا ہوتے ہوئے اپنا سارا نفس کس طرح خدا کے حضور پیش کر سکتا ہے۔تو اس سلسلہ میں قرآن کریم نے مختلف مواقع پر مختلف قسم کے گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کچھ سابقون ہیں، کچھ درمیانے درجہ کے لوگ ہیں، کچھ نسبتا پیچھے رہنے والے لوگ ہیں، کچھ تیز قدموں سے چلنے والے لوگ ہیں، کچھ درمیانے درجہ کے لوگ ہیں، کچھ نسبتاً آہستہ چلنے والے لوگ ہیں۔غرض قرآن کریم نے مختلف قسم کے انسان اور ان کی قربانی کا ذکر کر کے یہ باور کرا دیا ہے کہ ہر نفس کو کسی نہ کسی رنگ میں یہ بہر حال پیش کرنی ہوگی۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنا سارانفس جماعت کے سامنے پیش کر کے دعوت الی اللہ کرتے ہیں اور اپنے وقت کا کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتے۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارا جو کچھ بھی ہے وہ خدا کا ہے، ہماری زندگی کا ہرلمحہ دین کے لئے قربان ہے، اب جس طرح چاہو کام لو، جس طرح چاہو خدمت لو، ہمارا اپنا کچھ نہیں رہا، سب کچھ خدا کے لئے وقف ہے۔ان میں سے اکثر اپنے اس دعوئی پر پورے اترتے ہیں اور اپنے عمل صالح کے ساتھ اپنے اس دعوئی کی تصدیق کر دیتے ہیں۔اور کچھ وہ لوگ ہیں جو کچھ نہ کچھ وقت دے سکتے ہیں۔دنیا کے دھندوں میں لازماً قوم نے مبتلا ہونا ہے۔اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بھی دنیا کمانا ضروری ہے لیکن مقصود ان کا بھی خدمت دین ہوتی ہے۔چنانچہ جو اموال بڑی محنت کے ساتھ کماتے ہیں وہ خدا کے حضور پیش کر دیتے ہیں اور اس طرح وہ بھی اپنے دعوئی کو سچا کر کے دکھاتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نفوس بھی میرے حضور پیش کرنے ضروری ہیں بلکہ نفوس کا پہلے ذکر فرماتا ہے اس لئے ہر وہ احمدی جو مالی قربانی تو کر رہا ہے لیکن وقت کی قربانی پیش نہیں کر رہا وہ قرآن کریم کی اس آیت کی رو سے ایک لنگڑ ا مسلمان ہے۔اس کی دو ٹانگوں میں سے ایک ٹانگ نہیں ہے اور لنگڑا ہونے کے نتیجہ میں انسان اپنی اجتماعی قوت کے سوویں حصہ کے قابل بھی نہیں رہا کرتا۔یعنی دو ٹانگوں میں سے صرف ایک ٹانگ کے کٹنے کے نتیجہ میں انسان کی قوت آدھی نہیں ہو جاتی بلکہ بعض اوقات سوواں حصہ بھی نہیں رہتی اس لئے مسلمان دعویدار آدھا مسلمان رہ جائے یہ تو ایک بہت بڑا نقص ہے۔پس اگر پہلے ضرورت تھی کہ نفوس کی قربانی میں جماعت بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھے تو آج اس سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہمارے جتنے مبلغ میدان میں کام کر رہے تھے آج اس کا سوواں حصہ بھی نہیں کر رہے جبکہ ضرورتیں پھیل چکی ہیں اور