خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 22

خطبات طاہر جلد ۲ 22 خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء سب سے پہلے دل کو نرم کرنے کے لئے اور خوف دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو تسلی دلاتا ہے جو بہانہ سازیا بہانہ جو ہوتے ہیں اور فرماتا ہے کہ تم جو بہانے پیش کر رہے ہو اور اپنے افعال کا دفاع کر رہے ہو اس خوف سے کہ سزا ملے گی تو سنو ! ہم تمہیں تسلی دیتے ہیں کہ : اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃ اے انسان! تیرا رب بہت وسیع مغفرت والا ہے اس لئے تم بے ضرورت باتیں کر رہے ہو۔وہ تو ایسا مغفرت والا ہے کہ اس کے سامنے سیدھی اور صاف بات اور جرم کا صاف اقرار سزا کا مستوجب نہیں بناتا بلکہ مغفرت کا مستوجب بنا دیتا ہے۔اور پھر بہانہ سازی کی یہ کوشش لا طائل اور لا حاصل ہے اس سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔فرماتا ہے هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ انْشَاكُم مِّنَ الْأَرْضِ وہ تمہیں اس وقت سے جانتا ہے جب اس نے زمین سے تمہیں پہلی بارا ٹھایا تھا۔جب تمہیں آغاز تخلیق میں وجود کی خلعت بخشی گئی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ کروڑہا کروڑ سال (اتنے سال پہلے کہ عام آدمی ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا ) جب زندگی کا آغاز ہوا تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ واقف تھا کہ اس جنس میں کیا کیا کمزوریاں پیدا ہوں گی ، اس میں کون سی صفات حسنہ ہوں گی اور کون سی صفات سیئہ ہوں گی۔اس آیت سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسان کا بلیو پرنٹ یعنی اس کی تخلیق کا خاکہ اسکی پیدائش سے بہت پہلے بنادیا گیا تھا کیونکہ جب تک پہلے یہ خاکہ تیار نہ ہو یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ ہم تمہیں اسوقت سے جانتے ہیں جبکہ تم بحیثیت انسان ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے بلکہ کائنات میں زندگی کے آغاز کے وقت انسان اپنی تخلیق کے ابتدائی مراحل میں کروٹیں بدل رہا تھا اس وقت سے ہم تمہیں جانتے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا آغاز جس وقت سے بھی ہوا اور جس شکل میں بھی ہوا آخر تک انسان کے اندر جو جو صفات پیدا ہوئی تھیں ان سب کا ابتدائی نقشہ اس وقت بھی موجود تھا۔پھر فرماتا ہے کہ پھر ایسا وقت بھی آیا کہ تم انسان کی شکل میں دنیا میں ظاہر ہوئے لیکن دائیاں تو تمہارے پوتڑوں سے واقف ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاِذْ اَنْتُمُ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ اُمَّهَتِكُمْ تم سے ہم اس وقت سے واقف ہیں جب تم ماں کے پیٹ میں جنین تھے ، دوحقیر سے ذرے آپس میں مل رہے تھے اور کچھ واقعات رونما ہو رہے تھے، کچھ تبدیلیاں پیدا ہو رہی تھیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم جبکہ اس وقت بھی جانتے تھے کہ تم کیا بننے والے ہو تو ہمارے ہی سامنے کیا عذر