خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 91

خطبات طاہر جلد ۲ 91 خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۸۳ء نہ نکالا کر دیا یوں ہی کوئی دلیل دینی نہ شروع کر دیا کرو بلکہ اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کی رو سے تم اپنے ترکش سے سب سے اچھا تیر نکالو، سب سے مضبوط دلیل نکالا کرو اور یہ ایک بہت بڑی حکمت کی بات ہے۔بعض دفعہ لوگ کسی مضمون کے بارہ میں ایک سے زائد دلائل سیکھ جاتے ہیں اور پھر اس بات کا امتیاز کئے بغیر کہ وہ کس دلیل کو زیادہ عمدگی سے پیش کر سکتے ہیں ایک، دو، تین گنتی بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔اور یہ امر واقعہ ہے کہ ہر ہتھیار کو ہر شخص پوری مہارت سے استعمال نہیں کر سکتا۔اگر ہتھیا راچھا بھی ہو تب بھی اس کے استعمال کرنے کا ڈھنگ تو آنا چاہئے۔بعض قوموں نے ہتھیاروں میں بالا دستی کے باوجود بعض دفعہ عبرتناک شکستیں کھائی ہیں کیونکہ ان کو ہتھیار کا استعمال نہیں آتا تھا۔چنانچہ ۱۹۶۷ء کی مصر اسرائیل جنگ میں رشیا کی طرف سے مصریوں کو بڑےSophisticated) (Weapons عمدہ اور ترقی یافتہ ہتھیار دیئے گئے تھے لیکن مصریوں کو ابھی ان کا استعمال کرنا نہیں آیا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ دشمنوں نے ان ہتھیاروں پر قبضہ کیا اور پھر ان کو مصریوں کے خلاف استعمال کیا۔پس احسن دلیل سے صرف یہ مراد نہیں کہ دلیل فی ذاتہ مضبوط ہو بلکہ اس کو پیش کرنے کا ڈھنگ بھی احسن ہو اور اس پر پوری طرح عبور بھی حاصل ہو۔اس پہلو سے جب ہم تربیتی کلاسز منعقد کرتے ہیں تو ہمیں حکمت کے اس نکتے سے اس موقعہ پر بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے۔کوئی بھی طالب علم جس کو ایسی کلاسوں میں جانے کا تھوڑ اسا وقت ملتا ہے، اس کو بجائے اس کے زیادہ سے زیادہ دلائل سمجھائے جائیں جن سے فائدہ کی بجائے آہستہ آہستہ ذہن Confuse یعنی خلط مبحث پیدا ہو جائے، کوشش کی جائے کہ قرآنی تعلیم کے مطابق ایک چوٹی کی دلیل چنی جائے جو اس کو یاد کروائی جائے۔اس میں اسے صیقل کیا جائے اس کے سارے پہلو ذہن میں اجاگر کئے جائیں تا کہ وہ اسے زیادہ عمدگی کے ساتھ استعمال کر سکے اور پھر اس دلیل پر جو حملہ ہوتا ہے اس کا جواب بھی تفصیل سے سمجھایا جائے۔گویا ایک دلیل کو لے کر اس پر پوری مہارت پیدا کر دی جائے تو یہ ادْفَعُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کے حکم کی اطاعت ہوگی۔چنانچہ باہر کے ملکوں میں بعض مبلغین نے یہ تجربہ کر کے دیکھا ہے اور بڑا کامیاب ثابت ہوا ہے۔ایک افریقن مبلغ نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ اس نے اپنے ایسے افریقن نومسلموں کو جن کو عام تعلیم بھی نہیں آتی تھی، ان کو بائیبل میں سے ایک دلیل سکھا دی اور ان سے بار بار سنکر اتنی پختہ کروادی