خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 92
خطبات طاہر جلد ۲ 92 خطبه جمعه ۱۸ ر فروری ۱۹۸۳ء کہ پورا یقین ہو گیا کہ اب وہ اس ہتھیار کو استعمال کرنے کے ماہر ہو گئے ہیں۔پھر اس دلیل پر جو عیسائی مختلف تو جیہات پیش کرتے ہیں وہ بھی بتادیں اور بڑی آسانی کے ساتھ یہ کام ہو گیا۔اس کے بعد وہ دندناتے پھرتے تھے۔جہاں کوئی عیسائی مجمع ہوتا تھا وہاں پہنچ جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں زیادہ دلیلیں تو نہیں آتیں ایک دلیل آتی ہے اس کو تو ڑ کر دکھا دو۔جب تم اس کو تو ڑ کر دکھا دو گے تو پھر ہم دوسری دلیل لے آئیں گے لیکن جب تک اس کو نہیں توڑو گے ہم آگے نہیں چلیں گے۔اس ترکیب سے انہوں نے اردگرد کے تمام عیسائی منادوں کو مصیبت ڈال دی۔ان کا بیان ہے کہ حقیقتا ان منا دوں کو وہ علاقہ چھوڑ نا پڑا۔غرض ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کے تابع ہر احمدی جو داعی الی اللہ بنا چاہتا ہے اس کو پہلے تمام اختلافی مسائل کی کوئی ایک دلیل چن لینی چاہئے۔لیکن وہ دلیل چنی چاہئے جس پر وہ ذہنی اور علمی لحاظ سے خوب عبور حاصل کر سکتا ہو اور شروع میں اپنے علم کو بہت زیادہ نہ پھیلائے۔یہ بعد کی باتیں ہیں۔فی الحال تو سب سے قوی دلیل وفات مسیح کی ہے۔سب سے عمدہ تشریح قرآن کریم کی آیت خاتم النبین کی ہے اور اسی طرح دیگر مسائل مثلاً صداقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے موضوع پر ایک ایک دلیل کو چنیں اور اس پر عبور حاصل کریں۔اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا تیسرا پہلو یہ ہو کہ جب مناظرہ شروع ہو، گفتگو شروع ہو تو تمہارا یہ کام نہیں ہے اور تمہاری گفتگو کا یہ مقصد نہیں ہے کہ تم دوسرے کو نیچا دکھاؤ اور اس کی تذلیل کرو کیونکہ قول کا حسن جاذبیت کے معنی رکھتا ہے اس لیے تم جس بات کو پیش کروا سے اس طرح پیش کرو کہ لوگوں میں اس کے لئے کشش پیدا ہو نہ کہ نفرت میں اور بھی انگیخت ہو جائے۔پس یہ پہلو بھی قول کے حسن کے ساتھ بڑا گہرا تعلق رکھتا ہے۔احسن کہ کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہاری گفتگو کا طریق نہایت عمدہ ہونا چاہئے۔ایسی گفتگو کریں جس میں تقویٰ ہو، بچائی ہو، گہرائی ہو اور وزن ہو۔لوگوں کو صداقت از خود جھلکتی ہوئی نظر آ رہی ہو۔دیکھنے والے عش عش کر اٹھیں اور بے اختیار کہنے لگیں کہ یہ تو سچائی بول رہی ہے اور وہ ان کو قبول حق پر مجبور کر دے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سے صحابہ کم علمی کے باوجود اس لئے کامیاب مبلغ تھے کہ ان کی بات میں وزن تھا، ان کے اندر سچائی تھی ، ان میں سادگی تھی اور سادگی بجائے خود ایک قوت تھی۔ان چیزوں نے مل کر ان کی زبان میں اور ان کے