خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 84
خطبات طاہر جلد ۲ 84 خطبہ جمعہ ار فروری ۱۹۸۳ء ہمارا فرض ہے۔زندہ قومیں خدا کی راہ میں شہید ہونے والوں کو کبھی مرنے نہیں دیا کرتیں ، وہ خدا کی راہ میں قربانی کرنے والوں کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہیں تاکہ قیامت تک آئندہ آنے والی نسلیں ان کو دعائیں دیتی رہیں۔پس جس جس احمدی کے علم میں اس قسم کے واقعات ہیں وہ نظام کے تحت معین شہادتوں کے ساتھ ان واقعات کو مرکز سلسلہ میں بھجوانے کا انتظام کرے۔اس سلسلے میں ایسے واقعات چاہئیں جن میں صبر اور استقامت کا پہلو بھی ہو اور پھر نزول ملائکہ کا پہلو بھی ہو۔اس وقت کوئی ایک ملک میرا مخاطب نہیں بلکہ تمام دنیا میں جہاں جہاں بھی جماعت احمدیہ قائم ہے وہ ساری جماعتیں میری مخاطب ہیں۔خدا کے فضل سے دنیا کے اکثر ممالک میں احمدی پائے جاتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ کے فضل کے ساتھ آج جماعت احمدیہ پر سورج غروب نہیں ہوتا۔تو ان تمام ممالک کے احمدی میرے مخاطب ہیں کہ جو کچھ انہوں نے اپنے آبا ؤ اجداد سے سنا ہے اس کو بھی محفوظ کریں اور جو کچھ انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا ہے اس کو بھی محفوظ کریں۔پھر جہاں تک ممکن ہو شہادات سے مزین کر کے اور جماعت کے عہدیداروں کی تصدیق کے ساتھ ( اور اگر کسی جگہ جماعت نہیں ہے تو ویسے ہی ) مرکز کو اس کی اطلاع دیں اور یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہر جگہ حاسدین کے شر سے محفوظ رکھے۔یہ بھی کوشش کریں کہ یہ واقعات قلمبند کر کے محفوظ طریق پر بھجوائیں تا کہ یہ قیمتی سرمایہ ضائع نہ ہو جائے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق جیسا کہ میں نے بیان کیا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلیکہ اور ملائکہ کا یہ وعدہ کہ ہم تمہارے ساتھ رہیں گے ان کے حق میں پورا ہوتا ہے لیکن یہ وعدہ ایک اور پہلو سے بھی پورا ہوتا ہے جو اس سے زیادہ اہم ہے اور جو مقصود بالذات ہے، وہ پہلو یہ ہے کہ ملائکہ جن لوگوں کے دوست ہوں ان کا وہ تزکیہ کرتے ہیں ان کا نفس پہلے کی نسبت اور زیادہ پاک ہونے لگتا ہے کیونکہ یہ ہوہی نہیں سکتا کہ ملائکہ گندے لوگوں کے ساتھ دوستی کر کے بیٹھ جائیں۔اور یہ جو وعدہ ہے کہ ہم تمہارا ساتھ چھوڑیں گے نہیں ، اس میں یہ بھی خوشخبری ہے کہ جو قو میں ابتلاؤں کے دور سے گزرتی ہیں ان کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور ایسا تزکیہ نفس ہوتا ہے کہ پھر وہ جاری رہتا ہے اور قائم رہتا ہے وہ ایسے اعمال صالحہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے ، اس کا طبعی نتیجہ نکالا گیا بے وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا ثم اسجدة : ۳۴) یہ وہ لوگ ہیں