خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 83
خطبات طاہر جلد ۲ 83 83 خطبه جمعه ا ا ر فروری ۱۹۸۳ء کہ چند دن کہ بعد حملہ ہوا اور سارا مکان مع سارے سامان کے جلا کر خاکستر کر دیا گیا اور گھر قریباً ملبے میں تبدیل ہو گیا لیکن اس کی اپنی جان بچ گئی۔حملے مختلف قسم کے ہوتے ہیں، بعض دفعہ انسانی ظلم ایک حد سے آگے نہیں بڑھتا۔چنانچہ حملہ کرنے والوں نے اس بڑھیا پر حملہ نہیں کیا لیکن جلنے کے واقعہ سے وہ بڑی خوش اور مطمئن تھی بلکہ اس کے متعلق آتا ہے کہ اس نے خوشی کا اس قدرا ظہار کیا کہ کسی پوچھنے والے نے کہا کہ بی بی تو پاگل ہوگئی ہے؟ اس نے کہا میں پاگل نہیں ہوئی میں نے دیکھا کہ میرا افلاں رشتہ دار فلاں وقت لوٹا گیا تھا، اس کا چھوٹا ساتھڑا تھا اور کاروبار بھی بہت مختصر تھا اور اب وہ لکھ پتی ہے اور پہلے سے بڑھ کر قربانی پیش کر رہا ہے پس میں نے تو اس طرح خدا کے فضل نازل ہوتے دیکھے ہیں میں اس لئے خوش ہوں کہ مجھ پر بھی خدا کا کوئی فضل نازل ہونے والا ہے۔اس واقعہ کے تھوڑی دیر کے بعد اس کا وہ بیٹا جو کہیں جا چکا تھا کئی سال سے لا پتہ تھا اس حالت میں واپس آیا کہ اس نے باہر بہت دولت کمائی تھی۔اول تو ماں کے لئے سب سے بڑی دولت اس کا بیٹا ہی ہوتی ہے اور بیٹا بھی وہ جو گم ہو چکا ہولیکن خدا نے اسی دولت پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ ایک عمدہ مکان کی دولت سے بھی اسے مالا مال کر دیا۔اس کے بیٹے نے آ کر جب مکان کو دیکھا تو اس نے کہا امی! میں تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ پر ا نا مکان گرا کر آپ کو ایک نیا مکان بنوا کر دوں گا اور اس طرح اپنے دل کی تمنائیں پوری کروں گا۔میرے دل میں آپ کی خدمت کے لئے بڑی تمنا ئیں تھیں۔اللہ کا کتنا احسان ہے کہ اس مکان کو گرانے پر مجھے کوئی خرچ نہیں کرنا پڑا۔اب اس کو Demolish کرنے ،ختم کرنے اور اکھیٹر نے وغیرہ پر کم رقم خرچ ہوگی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور اس نے اس جگہ ایک بہت ہی پیارا اور اچھا مکان اپنی ماں کو بنا کر دیا۔اس قسم کے واقعات بڑی کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں، محفوظ بھی اور غیر محفوظ بھی۔کچھ اجتماعی شکل میں مسودات میں پڑے ہوئے ہیں اور بے شمار ایسے ہیں جو جماعتوں میں پھیلے پڑے ہیں اور انہیں محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔اس قسم کے واقعات کے بیان کا مقصود یہ ہے کہ جماعت کے پاس یہ امانت ہیں اور خطرہ ہے کہ اگر آج اس امانت کی حفاظت نہ کی گئی تو یہ ضائع ہو جائے گی۔یہ آپ کی اولادوں کی امانت ہے، یہ آپ کے مستقبل کی امانت ہے یہ ان قربانی کرنے والوں کی امانت ہے جن کا نام زندہ رکھنا