خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 3

خطبات طاہر جلد ۲ 3 خطبہ جمعہ ۷ / جنوری ۱۹۸۳ء کروں لیکن کوئی اثر نہیں ہوتا تھا حالانکہ میں بہت زور مارتا رہا لیکن وہی جس طرح کہتے ہیں پنچوں کا کہنا سر آنکھوں پر لیکن پر نالہ وہیں رہے گا۔ تو سر آنکھوں پر بات کر کے جب یہ واپس جاتے تھے تو الا ما شاء اللہ اسی طرح دکانیں کھول دیتے تھے ۔ اب بھی وہی میں ہوں ۔ بحیثیت ذات کے تو وہی ہوں لیکن چونکہ یہ آواز خلافت کی طرف سے بلند ہوئی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس میں غیر معمولی اثر رکھ دیا۔ لیکن ضمناً ایک بات کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے خلافت کی آواز میں اثر رکھا ہے اور جماعت میں غیر معمولی اطاعت کی روح رکھی ہے لیکن جو اصل مومنوں کی جماعت ہے جو حضرت محمد مصطفی دیکھنا چاہتے ہیں اس جماعت میں نصیحت اہمیت رکھتی ہے نصیحت کرنے والے کی کوئی اہمیت نہیں ہے یعنی امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں تک نصیحت سننے والے کا تعلق ہے اس کو یہ نصیحت فرمائی گئی ہے کہ تم یہ نہ دیکھو کہ کس نے تمہیں کیا بات کہی ہے بلکہ تم یہ دیکھو کہ وہ بات ہے کیا جو کہی جارہی ہے۔ اگر اچھی بات ہے تو خواہ کسی شخص سے بھی ملے وہ بہر حال تمہاری چیز ہے اور تمہاری دولت ہے۔ صلى الله عروسه كلمة الحكمة ضالة المؤمن (جامع ترندى باب ما جاء في فضل الفقه على العبادة ) اس کو اس طرح قبول کرو گویا تمہاری اپنی چیز کھوئی تھی ، اس کو اٹھاؤ ، صاف ستھرا کرو۔ اگر اس بات میں کوئی خم ہے، کوئی کبھی ہے، کوئی طعن شامل ہو گیا ہے تو یہ تو باتوں کے گند ہوتے ہیں۔ تمہاری چیزیں بھی بعض دفعہ گند ڈھیروں پر گر جاتی ہیں۔ تم ان کو اٹھاتے ہو، دھوتے ہو، صاف کرتے ہو تو ان حکمت کی باتوں کو بھی اسی طرح قبول کر لیا کرو۔ ، صلى الله پس یہ ہے وہ اصل تصور مومنوں کی جماعت کا جو حضرت محمد مصطفی علی نے قائم فرمایا اور یہ سب ا میں سے اعلیٰ تصور ہے یعنی اپنی ڈیفنس لائن (Defence Line) کو کناروں تک پہنچا دو۔ یعنی اطاعت ؟ انتہائی حدوں پہ قدم مارو۔ اسی مضمون کو قرآن کریم نے بیان فرمایا را بطوا (آل عمران : ۲۰۱) کے ایک لفظ میں کہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرو۔ سیکنڈ ڈیفنس لائن ( Second Defence Line) یا تھرڈ ڈیفنس لائن (Third Defence Line ) سنٹرل ڈیفنس لائن پر اگر تم واپس جلدی جلدی آنا شروع ہو گے تو تمہارے لئے کئی قسم کے خطرات در پیش ہونگے ۔ پس نصیحت کے معاملہ میں رابطوا کا حکم یہ ہوگا کہ ادنی آدمی نصیحت کرے یا اعلیٰ آدمی