خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 2
خطبات طاہر جلد ۲ 2 خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۸۳ء سے کم نہیں بلکہ زیادہ قربانی کا مظاہرہ کیا ہے۔مثلاً ۲۸؍ دسمبر کو پہلے وقت میں جب کہ ابھی بارش ہو رہی تھی اور شدید سردی تھی اس وقت ہم نے جو جائزہ لیا تو معلوم یہ ہوا کہ مردوں کے جلسہ گاہ میں نسبتاً بہت کم آدمی ہیں لیکن عورتوں کے جلسہ گاہ میں بہت زیادہ خواتین ہیں۔باوجود اس کے کہ ان میں بیشتر کی گود میں بچے بھی تھے اور ہاتھوں میں سلیپر یا گر گا بیاں (جو بھی وہ پہنتی تھیں وہ ) اٹھارکھی تھیں اور کیچڑ میں لت پت بڑے صبر کے ساتھ انتظار کرنے لگیں کہ جلسہ کے بارہ میں کیا فیصلہ ہوتا ہے اور شام کو بھی اسی طرح مستورات باوجود اس کے کہ بچے شدید سردی میں تکلیف بھی محسوس کر رہے تھے لیکن بڑے صبر کے ساتھ وہ پورا وقت بیٹھی رہیں اور ان میں کوئی اٹھ کر بھی نہیں گئی۔پس تاریخ احمدیت کے یہ ایسے واقعات ہیں جو واقعہ محفوظ ہونے چاہئیں تا کہ آئندہ نسلیں اپنے آباؤ اجداد کی عظیم ہمتوں کا ذکر کر کے ان کے لئے دعا کرتی رہیں۔دوسرے میں ربوہ کے دکانداروں کا از خود ذکر کرنا چاہتا ہوں۔مجھے خیال آیا کہ یہ حصہ بھی ایسا ہے جو دعا کا مستحق ہے۔اس دفعہ ایک دو مرتبہ خطبات میں یہ ذکر کیا گیا کہ جلسہ کے دوران دکانیں کھلی رہتی ہیں اور اس سے برا اثر پڑتا ہے دکاندار خود بھی نیکیوں سے محروم رہ جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی محروم رکھتے ہیں اور اسی طرح نمازوں کے اوقات میں دکانیں بند نہیں کرتے اور اپنے کاروبار میں مصروف رہتے ہیں۔اس جلسہ پر جو جائزہ لیا گیا اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بھاری اکثریت، غیر معمولی طور پر نمایاں اکثریت نے ان نصائح پر عمل کیا اور جلسہ کے دوران دکانیں بند رکھیں اور نمازوں کے اوقات میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ دکانوں کا کاروبار چھوڑ کر مساجد میں حاضر ہوتے رہے۔پس یہ لوگ بھی خاص طور پر ہماری دعاؤں کے مستحق ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ خلافت کی برکات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض دفعہ بظاہر نصیحت عمل نہیں کر رہی ہوتی لیکن جب خلیفہ وقت کی زبان سے وہی نصیحت نکلتی ہے تو اس میں اللہ تعالیٰ غیر معمولی اثر پیدا کر دیتا ہے۔یہ وہ دکاندار ہیں جن کو سالہا سال سے میں سمجھانے کی کوشش کرتا رہا۔ان کے کئی اجلاس بلائے گئے کیونکہ افسر صاحب جلسہ سالانہ نے بحیثیت نائب افسر یہ میری ذمہ داری لگا رکھی تھی کہ میں تربیت کے امور کی عمومی نگرانی