خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 82

خطبات طاہر جلد ۲ 88 82 خطبه جمعه ۱۱ / فروری ۱۹۸۳ء پہنے جاتے ہیں۔پھر اس نے مثلاً سویاں پکائیں جو ہمارے ہاں بھی دیہات میں عموماً عید کے موقع پر پکائی جاتی ہیں اور بچوں کو خوب سجا بنا کر اور خوب اچھی خوراک دے کر ماں نے کہا بچو! اب حملہ ہونے والا ہے تم میرے چار جوان بچے ہو تم میں سے اگر ایک بھی پیٹھ دکھا کر زندہ واپس آیا تو میں اس کو کبھی اپنا دودھ نہیں بخشوں گی۔جس طرح میں نے تمہاری عید بنائی ہے، تم میری عید بنانا۔خدا کی راہ میں ہنتے، مسکراتے اور اپنی چھاتیوں پر وار کھاتے ہوئے جانیں دینا، پیٹھ پر وار کھاتے ہوئے نہیں۔اس طرح اس نے اپنے چاروں جوان بیٹے خدا کے حضور پیش کر دیئے لیکن تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَكَةُ کا وعدہ اس شان سے اس کے حق میں پورا ہوا کہ مختلف دیہات کا یہ جتھہ گاؤں کے قریب آکر ایک ایسی افواہ کے نتیجے میں واپس لوٹ گیا جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں تھی۔حملہ کرنے والوں کو یہ خبر پہنچ گئی کہ یہاں جواحمدی خاندان ہے اس کے بہت سے ساتھی ہیں جو ہتھیار بند ہیں اور بڑے خطرناک ہتھیار ان کے پاس جمع ہیں اس لئے اگر ان کے چار مارے جائیں گے تو تمہارے سو ڈیڑھ سو مارے جائیں گے۔اب بھی اگر تم نے حملہ کرنا ہے تو بیشک کرو لیکن یہ بے حقیقت خبر سن کر وہ حملہ کے بغیر ہی واپس لوٹ گئے۔جس علاقے کی میں بات کر رہا ہوں وہاں کے لوگ بڑے بہادر اور لڑنے والے ہیں اس لئے وہ یونہی واپس نہیں گئے۔یہ ان کے دل کا خوف نہیں تھا بلکہ الہی تصرف تھا کہ افواہ کا نتیجہ اس رنگ میں ظاہر ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے تھے جو ان کی باگیں موڑ رہے تھے اور جب خدا کے فرشتے کسی قوم کی باگیں موڑ دیا کرتے ہیں تو پھر اس رخ پر چلنے کی اس کو استطاعت نہیں ہوتی۔اسی طرح ایک اور جگہ ایک احمدی خاتون جو بیوہ تھیں، بالکل اکیلی رہتی تھیں ان کا کوئی بچہ بھی نہیں تھا سوائے ایک کے جولا پتہ تھا۔جب ان کے اردگر داحمدیوں کے مکان جلنے اور لٹنے شروع ہوئے تو ان کے دل میں بڑی حسرت پیدا ہوئی کہ یہ میری طرف رخ کیوں نہیں کر رہے کہیں میرا ایمان تو کمزور نہیں کہ خدا مجھے اس آزمائش میں نہیں ڈال رہا۔وہ ایسی بے قرار ہوئیں کہ باہر نکل کر چوک میں واویلا شروع کر دیا کہ ظالمو! تم نے میرے ایمان میں کیا کمزوری دیکھی ہے جو مجھے نہیں لوٹ رہے۔خدا کی قسم ! میں بھی احمدی ہوں اور امام مہدی کو سچا سمجھتی ہوں۔اگر باقی احمدیوں کے گھر لوٹ کر ان کے دل ٹھنڈے کر رہے ہو تو میرا بھی لوٹو۔اس خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ اس کی یہ چیخ نکلی