خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 71

خطبات طاہر جلد ۲ 71 خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۸۳ء جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا، ان لوگوں میں کچھ شہید بھی ہوئے انہوں نے اپنی جانیں خدا کی راہ میں دے دیں۔بہت سے ہیں جن کے اموال لوٹے گئے بہت سے ہیں جن کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے قتل کئے گئے بہت سے ہیں جن کی ساری عمر کی کمائی ان کی آنکھوں کے سامنے جلا کر خاک کر دی گئی۔پھر الَّا تَخَافُوا کا کیا مطلب ہے اور وَلَا تَحْزَنُوا کے کیا معنی ہیں؟ وہ جنت کیسی ہے جس کی خبریں فرشتے لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جنت اسی دنیا میں شروع ہوگئی ہے؟ اس کے اور بھی معانی ہوں گے لیکن دو معانی کی طرف میں آپ کو اس وقت توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ایک معنی تو یہ ہے کہ یہ قومی خطاب ہے کیونکہ اس میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ قومی تقدیر اس طرح پر بنے گی کہ فرشتے نازل ہوں گے گوانفرادی طور پر کچھ نقصان بھی پہنچیں گے لیکن بالآخر ہر نقصان کے بعد ایسے سامان پیدا کئے جائیں گے کہ وہ مومنین جو استقامت دکھائیں گے وہ پہلے سے بہت بہتر حالت میں ہونگے۔ان کے چند روپے لوٹے جائیں گے تو وہ لکھوکھا میں تبدیل ہو جائیں گے ان کی چند جانیں جائیں گی تو لکھوکھا اور لوگ ان میں شامل ہوں گے اور ان کی اولادوں میں بھی برکت دی جائے گی۔یہ ایسی قوم ہے جس کو ہمیشہ حزن ہی کے راستوں پر نہیں چلنا ان کے غم پیچھے رہتے چلے جائیں گے اور خوشیاں ان کے آگے آگے دوڑیں گی اور ان کے تمام خوف امن میں تبدیل کر دیئے جایا کریں گے۔اور دوسرا معنی یہ ہے کہ ان استقامت دکھانے والوں میں خدا کے کچھ ایسے بندے بھی ہوں گے جن کو خدا کے رستے کے غم غم نظر نہیں آئیں گے۔جن کو جب خدا کے نام پر ڈرایا جائے گا اور خدا کا نام لینے کے نتیجہ میں ڈرایا جائے گا تو وہ خوف سے آزاد لوگ ہوں گے۔چنانچہ اس گروہ کے متعلق ایک دوسری جگہ خدا نے فرمایا: ألَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ (یونس : ۶۳) کہ انہی لوگوں میں جن پر فرشتے نازل ہو کر یہ کہتے ہیں کہ غم نہ کھاؤ اور خوف نہ کرو کچھ ایسے لوگ ہیں جو غم اور خوف سے پہلے سے ہی آزاد کر دیئے گئے ہیں کیونکہ یہ اولیاء اللہ ہیں۔اور ان دونوں معنوں کے لحاظ سے جنت کی خوشخبری کی تعبیریں بھی الگ الگ کی گئیں۔یعنی