خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 72
خطبات طاہر جلد ۲ 72 خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۸۳ء وہ لوگ جو شہید ہوتے ہیں ان کو جب فرشتے کہتے ہیں کہ خوف نہ کھاؤ اور غم نہ کر د یاغم نہ کرو اور خوف نہ کھاؤ تو اس کے کیا معنی ہوتے ہیں ، کیا وہ لوگ اس کو طعن سمجھتے ہیں؟ ہرگز نہیں کیونکہ خدا کی راہ میں جو کچھ وہ پیش کرنا چاہتے ہیں وہ ان کے دل کی تمنا ہوتی ہے اور وہ یہی چاہتے ہیں کہ خدا کی راہ میں شہید کر دیئے جائیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایسے اولیاء اللہ بھی گزرے ہیں جنہوں نے الحاح کے ساتھ دعائیں کرائیں کہ یا رسول اللہ ! دعا کریں کہ ہم شہید ہو جائیں۔ایک صحابی کے متعلق آتا ہے کہ جنگ احد میں وہ دشمن پر بار بار اس لئے حملے کرتے تھے کہ شہادت پائیں لیکن ہر بار سلامت واپس لوٹ آتے۔یہاں تک کہ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! میرے لئے دعا کریں کہ میں واپس نہ آؤں بلکہ شہید ہو جاؤں اور شہید ہو گئے اور پھر واپس نہیں لوٹے۔پس خدا کی راہ میں قربانیاں دینا ہی ان لوگوں کی جنتیں ہو جاتی ہیں۔یہ نہیں کہ فرشتے ان سے دھو کہ کر رہے ہوتے ہیں اور طفل تسلیاں دے رہے ہوتے ہیں۔جس طرح غریب مائیں بعض دفعہ چاہتی تو ہیں کہ بچوں کی خواہش پوری کریں لیکن نہیں کر سکتیں پھر وہ طفل تسلیاں دیتی ہیں کہ کوئی بات نہیں ابھی چیز مل جائے گی یا پیسے مل جائیں گے یا یہ کہ اب گھر آجائیں گے۔لیکن خدا تو غریب ماں کی طرح نہیں کہ طفل تسلیاں دے۔اس کے فرشتے تو خالی ہاتھ نہیں ہوا کرتے۔ہاں اللہ ان کے دلوں پر نظر ڈالتا ہے اور جانتا ہے کہ ان کے دل کی اصل تمنائیں کیا ہیں۔پس وہ فرشتے ان کے پاس یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ یہی تو وہ جنت تھی جس کا تم انتظار کر رہے تھے ہم وہ جنت لیکر آگئے ہیں وہ مسکراہٹ جوان شہداء کے چہروں پر دیکھی گئی ، وہ اسی جنت کی خوشخبری کی مسکراہٹ تھی۔ان کے دل کی کیفیت کا حال دنیا والے نہیں جانتے نہیں سمجھ سکتے ، وہ ان سے بے خبر ہیں۔یہ اس دنیا کے لوگ نہیں ہیں یہ اہل بقا ہیں جو اس فانی دنیا میں بھی بقا کی جنت پا جاتے ہیں اور ان کے دل کی کیفیت کے مطابق ان سے سلوک کیا جاتا ہے۔پس چونکہ وہ پہلے سے ہی غموں سے اور خوف سے آزاد ہوتے ہیں اس لئے ان کے متعلق یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ کسی وقت بھی غم اور خوف کی حالت میں وقت گزار رہے ہوں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔چنانچہ جہاں تک قومی زندگی کا تعلق ہے ظاہر میں بھی ایک خوف امن میں بدلتا چلا جاتا