خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 63

خطبات طاہر جلد ۲ 63 83 خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۸۳ء داعی الی اللہ کو ابتلا میں استقامت دکھانا ضروری ہے ( خطبه جمعه فرموده ۴ فروری ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصی ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ حم السجدۃ کی مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: اِنَّ الَّذِينَ قَالُوْا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ۚ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِىَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلًا مِنْ غَفُوْرٍ رَّحِيمٍ (تم السجدة :۳۱-۳۳) اور پھر فرمایا: میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو داعی الی اللہ بننے کی تلقین کی تھی۔قرآن کریم نے جہاں داعی الی اللہ کی تعریف فرمائی ہے اس سے پہلے وہ پس منظر بھی بیان فرمایا ہے جو اس جماعت کا پس منظر ہے جس میں سے داعی الی اللہ نکلتے ہیں اور ان حالات پر بھی روشنی ڈالی ہے جن حالات کے باوجود یا جن حالات کے نتیجے میں داعی الی اللہ پیدا ہوتے رہتے ہیں۔