خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 62
خطبات طاہر جلد ۲ 62 خطبه جمعه ۲۸ / جنوری ۱۹۸۳ء توفیق عطا فرمائے۔زمانہ بڑی تیزی کے ساتھ ہلاکتوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔اس کے قدم روکنے ہیں تو ہم نے روکنے ہیں ، اسکی نجات کے سامان پیدا کرنے ہیں تو خدا کے حضور گریہ وزاری کے ساتھ ہم نے پیدا کرنے ہیں اسے خدا کے قدموں میں حاضر کرنا ہے تو ہم نے حاضر کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: اس اعلان کے تمہ کے طور پر یہ بات بھی میں احباب کے سامنے کھول کر رکھنا چاہتا ہوں کہ جولوگ دعاؤں کے خط لکھتے ہیں وہ اگر اپنے خطوں میں اس بات کا ذکر بھی کر دیا کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے داعی الی اللہ بن چکے ہیں اور انہوں نے دعوت الی اللہ کا کام شروع کر دیا ہے تو ان کے اس خط کے ساتھ میرے لئے یہ بہترین نذرانہ ہو گا۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ نذرانہ کا فلسفہ بھی یہی ہے کہ کسی کے ساتھ تعلق محبت کے نتیجہ میں دل میں بے اختیار دعا پیدا ہو اور جتنا تعلق بڑھتا ہے اتنی زیادہ د عادل سے اٹھتی ہے۔پس جہاں تک میرے دل کا تعلق ہے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس سے زیادہ پیارا اور اس سے زیادہ عزیز نذرانہ میرے لئے اور کوئی نہیں ہو گا کہ احمدی خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا مجھے دعا کے ساتھ یہ لکھے کہ میں خدا کے فضل کے ساتھ ان لوگوں میں داخل ہو گیا ہوں جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں، جن کا عمل صالح ہے اور جو خدا کے فرمان کے مطابق یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔جب یہ بات ساتھ لکھی ہوئی ملے گی اور اس کے ساتھ پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعد میں بیعتیں بھی آنی شروع ہوں گی تو پھر آپ دیکھیں گے کہ کس طرح میرے دل سے دعا ئیں پھوٹ پھوٹ کر نکلیں گی ، میرے دل ہی سے نہیں ہر احمدی کے دل سے ان لوگوں کے لئے پھوٹ پھوٹ کر دعائیں نکلیں گی۔اللہ تعالیٰ آپ کو ایسے نذرانے دینے والا بنادے اور مجھے ایسے نذرانے قبول کر کے ان کا حق ادا کرنے والا بنا دے۔آمین۔(روز نامه الفضل ربوه ۲۶ را پریل ۱۹۸۳ء)