خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 660
خطبات طاہر جلد ۲ 660 خطبه جمعه ۳۰/دسمبر ۱۹۸۳ء سالن کے پیالے لئے ہوئے سب پھر رہے ہوتے ہیں اور پھر بھی بعض دفعہ مہمان کو پوری طرح تسکین نہیں پہنچا سکتے۔اس پر پھر وہ شرمندہ بھی ہوتے ہیں۔مجھ سے میری ایک بچی نے کہا کہ ابا مجھے پتہ نہیں لگا، میں نے تو بہت کوشش کی کہ ٹھیک طرح کھانا پہنچاؤں لیکن آج صبح ایک عورت نے کہا ” بی بی سواد نہیں آیا تو میں کس طرح سواد پہنچاؤں مجھے پتہ نہیں لگ رہا۔تو یہی حال سب بچوں کا ہے۔ان کی تو پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح ہمارے مہمانوں کو سواد، پہنچ جائے لیکن بعض دفعہ نہیں بھی آتا۔پس ان سب کے لئے دعائیں کریں۔ان کارکنوں کی روح کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ رکھے، اپنے فضلوں کا وارث بنائے اس کے نتیجہ میں ان پر پیار کے ساتھ ظاہر ہواور یہ محسوس کریں کہ ہمارا اجر دینے والا ہمارا خدا ہے۔اور ہمیں دنیا میں کسی سے قطعا نہ امید رکھنی چاہئے نہ اس کے کوئی معنے ہیں۔ہمیشہ خالصتہ للہ ہمارے کارکنان کام کرتے ہیں۔خدمت خلق والے بھی ہیں لنگروں میں کام کرنے والے، دیگر انتظاموں میں ملاقات کے انتظام کرنے والے ، باہر سے آنے والے ، ربوہ میں رہنے والے، ایک عجیب چیز ہے ایسی چیز دنیا میں کسی اور نے نہیں دیکھی ہوگی۔دنیا میں ایسی کوئی جماعت نہیں یہ میں آپ کو یقین دلا دیتا ہوں۔بعض غیر بھی محسوس کرتے ہیں۔باہر سے ایک مہمان آئے ہوئے تھے، ان کا تاثر یہ تھا۔انہوں نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ ایسی چیز دنیا میں ہے ہی کہیں نہیں۔یہ لوگ جو میں نے دیکھے ہیں یہ قوم ہی الگ ہے ان کی کہیں بھی کوئی نظیر نہیں ہے اور واقعتہ بھی یہی ہے۔یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے نور نبوت کا احسان ہے جب تک نور نازل نہ ہود نیا زندہ نہیں ہوا کرتی۔یہ وہ زندگی کے آثار ہیں جن کو ہم دیکھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۴ / مارچ ۱۹۸۴ء)