خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 658 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 658

خطبات طاہر جلد ۲ 658 خطبه جمعه ۳۰ / دسمبر ۱۹۸۳ء بھی اور رات کو بھی۔کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور جب وہ رات کو کروٹیں بدل رہے ہوتے ہیں تب بھی اللہ کی محبت ان پر غلبہ پالیتی ہے اور وہ ان کے سارے وجود پر حاوی ہو چکی ہوتی ہے۔الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ یہ وہ لوگ ہیں کہ خَلْقِ السَّمَوتِ وَ الْاَرْضِ پر غور کرتے ہیں تو پھر انہیں نظر آتا ہے کہ اس کے پیچھے کیا ہے۔یہاں یہ نہیں فرمایا کہ اولی الالباب وہ ہیں جو زمین و آسمان کی تخلیق پر غور کرتے ہیں اور اس غور کے نتیجہ میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔آپ کو ایسا کوئی آدمی دنیا میں نظر نہیں آئے گا۔اللہ کو یاد کرنے والے جب غور کرتے ہیں تو پھر ان کے دل اس کے پیار اور اس کی خوشبو سے مہک اٹھتے ہیں۔پھر انہیں ہر بات میں خدا کا ہاتھ نظر آنا شروع ہو جاتا ہے اور جو اپنی طاقت سے دنیا کی تلاش کرتے ہیں تو ان کے لئے ہر چیز جو وہ معلوم کرتے ہیں ایک پردہ ہوتی ہے اور پردے سے پیچھے پردہ اٹھاتے چلے جاتے ہیں اور آگے پر دے ہی رہتے ہیں۔ان غور کرنے والوں سے تو بہتر غالب کا غور تھا جو یہ کہتا ہے: محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا (دیوان غالب) کہ اے اللہ کا ئنات کے رازوں کا صرف تو ہی محرم نہیں ہے۔ہم نے تو دیکھا ہے کہ تو نے جو پر دے ڈالے ہوئے ہیں وہ تو ساز کے پردے ہیں اور ہر پردہ سے تیرے نغمے اٹھتے ہیں یعنی جب مومن غور کرے تو اسے ہر پردہ سے اللہ تعالیٰ کی حمد کے ترانے اٹھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، وہ ساز کا پردہ بن جاتا ہے اور جب دنیا والا غور کرتا ہے تو اس کا غور اور اس کی نظر ان پردوں سے ٹکرا کر واپس آتی رہتی ہے اور اس کو کچھ اور نظر نہیں آتا۔آج سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے اور یہ انہیں کی محنتوں کا پھل ہے جنہیں ہم قرآن کریم کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو روح وجد میں آجاتی ہے لیکن وہ اسی طرح اندھے کے اندھے ہیں اس لئے کہ قرآن کریم فرماتا ہے: لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (الانعام: ۱۰۴)