خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 656
خطبات طاہر جلد ۲ 656 خطبه جمعه ۳۰ / دسمبر ۱۹۸۳ء داخل کر کے اپنی خوراک کی حفاظت کا انتظام بھی کر رہے ہوتے ہیں اور وہ رات ہی رات میں سارا جنگل صاف کر دیتے ہیں۔وہ فضلہ ان کی خوراک ہے اور جو ان کا فضلہ ہے اس کا انتظار بعض اور جاندار کر رہے ہوتے ہیں کہ اب یہ کھا پی کر فارغ ہوں تو جو ان کا فضلہ ہوگا پھر ہم اس کو کھا کر اس پر پلیں گے۔یہ اتنا کامل چکر ہے کہ اس کے بیچ میں کوئی ایک ذرہ بھی نہیں جو ضائع ہو رہا ہو۔ہمیں محسوس بھی نہیں ہوتا کہ یہ کائنات کس طرح چل رہی ہے۔پانی کا انتظام دیکھیں۔سمندر ہے، کس طرح خاموشی کے ساتھ پانی اٹھ رہے ہیں اور پہاڑوں پر جا کر خاموشی کے ساتھ واپس آرہے ہیں۔اگر یہ پانی اس طرح جاری نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اگر تمہارا پانی نیچے اتر جائے تو تمہارے پاس کوئی طاقت نہیں ہے کہ اس کو کھینچ کر واپس لاسکو۔(الملک:۳۱) نمکین سمندروں میں سے صاف پانی اٹھانا اور اس کو پھر اس طرح چلانا کہ بغیر آواز ، بغیر شور ، بغیر کسی فساد کے وہ پانی از خود جہاں پہنچتا ہے وہاں پہنچ رہا ہے اور کچھ بہ رہا ہے، کچھ جھیلوں کی صورت میں ہے، کچھ زمین میں جذب ہوکر انسان کے کام آتا ہے اور ساتھ ہی سارے کا سارا صاف اور شفاف بھی ہو چکا ہوتا ہے۔اس کے برعکس ایک انسان جو صنعت کاری کے اتنے بڑے دعوے کرتا ہے صرف مڈل ایسٹ کے پانی کا مسئلہ ہی حل نہیں کر سکا۔ایسی ایسی سکیمیں بنائی ہیں کہ ساؤتھ پول ( قطب جنوبی ) سے برف کے تو دے کاٹ کر انہیں جہاز گھسیٹ کر لے آئیں اور وہاں جا کر جتنی برف بچ جائے اس سے وہ پانی لیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کا انتظام دیکھیں کسی خاموشی سے فضا میں خود بخود بخارات اٹھ رہے ہیں کوئی پتہ ہی نہیں لگ رہا کہ کیا ہورہا ہے اور جوانر جی آ رہی ہے وہ سب جگہ موجود ہے لیکن کسی کو آگ نہیں لگا رہی ورنہ کارخانوں کے لئے جو انرجی استعمال کرنی پڑتی ہے اس کی تو بعض دفعہ اتنی خطر ناک شکلیں بن جاتی ہیں کہ نہ صرف اسے سنبھالنا مشکل بلکہ اس کے قریب کام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے اور اٹامک انرجی تو بہت ہی زیادہ خطرات اپنے اندر رکھتی ہے۔اب آرام سے پیاری پیاری دھوپ اتر رہی ہے اور پورے کارخانے کی طاقت جتنی چاہئے اتنی دے رہی ہے اس سے کچھ حصہ زائد نہیں کر رہی۔اس میں اتنے باریک حساب ہیں اور اتنے حیرت انگیز اعداد و شمار الجھے ہوئے ہیں کہ دنیا کا بڑے سے بڑا کمپیوٹر بھی اسے حل نہیں کر سکتا۔اس توازن کو اس بار یکی کے ساتھ رکھنا کوئی معمولی بات نہیں کہ خود بخود ہو چکا ہو۔پھر آپ دیکھیں کہ بعض دفعہ آپ غور بھی نہیں کرتے کہ کسی جگہ