خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 646 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 646

خطبات طاہر جلد ۲ 646 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۳ء آ رہے ہیں اگر سارا سال آپ نے اس معاملہ میں غفلت کی ہے اور بچوں کی تربیت کی طرف توجہ نہیں بھی کی تو کم سے کم اب تو ضرور کریں اور ان ایام میں گھروں میں بھی یہ آواز سنائی نہیں دینی چاہئے۔چند ایام کی نیکی بعض دفعہ باقی ایام پر بھی اچھا اثر ڈالتی ہے اور آپ کو آئندہ بھی اس طرف توجہ ہوگی۔حکمت اور محبت اور پیار کے ساتھ بچوں کا طبعی میلان نیکی کی طرف کر دیں۔آج کل کیسٹ پروگرام بہت چل رہے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی نظمیں بڑی اچھی آوازوں میں مہیا ہیں، تلاوت کی بہت اچھی کیسٹیں ملتی ہیں۔غرض مقصد یہ ہے کہ تربیت کے ذریعہ تدریجاً مزاج میں اصلاح کریں۔میلان تبدیل کریں اور گھروں سے اچھی پاکیزہ آواز میں بلند ہوں اور وہ آوازیں پھر بازاروں میں جا کر بھی خوش کن اثرات پیدا کریں۔پس اول تو گھروں سے کوئی بھی لغویات کی آواز نہیں آنی چاہئے۔اس کے برعکس یہ کوشش کریں کہ اچھی نظموں کی اور اچھے کلام کی آوازیں سڑکوں تک پہنچیں۔یہ راہ گیر کاحق ہے کہ جب وہ سڑک پر چل رہا ہو تو اس کو تلاوت کی پیاری پیاری آواز آ رہی ہو ، اچھی اچھی نظموں کی آواز آ رہی ہو۔یہ بھی آپ اس کو ایک طرح کی خوشی پہنچارہے ہوں گے۔اس طرف بھی توجہ ہونی چاہئے۔دوسرے ربوہ کے گھر والوں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ان دنوں میں کسی قسم کا کوئی جھگڑا نہ ہو۔بعض گھروں سے جھگڑوں کی آوازیں بھی باہر آتی ہیں۔اس سلسلہ میں خاص طور پر توجہ کریں۔اول تو یہاں سال کے کسی حصہ میں بھی کوئی جھگڑا نہیں ہونا چاہئے جو بہر حال ایک تکلیف دہ شکل ہے لیکن ان ایام میں تو بدرجہ اولی صلح اور امن اور محبت اور پیار کا ماحول پیدا کریں۔جو مہمان آپ کے گھروں میں آئیں گے ان کے لئے تو آپ نے تیاری کی ہوگی، سارا سال آپ ان کی راہ دیکھتے ہیں، جہاں تک بس چلتا ہے آپ ان کی خدمت کرتے ہیں۔اس سلسلہ میں تو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ایک بات جس کے متعلق گزشتہ سال بھی توجہ دلائی تھی اور اب پھر توجہ دلاتا ہوں کہ مہمانوں کے حقوق میں یہ بات بھی داخل ہے کہ ان کو نیکی کی تعلیم دی جائے اور ان کو عبادت کی طرف متوجہ کیا جائے۔بہت سے گھروں میں جلسہ کے دنوں میں یہ خیال نہیں رہتا کہ نمازوں کے اوقات ہیں اور لوگ گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ان کا اس وقت گھروں میں بیٹھنے کا مطلب ہی کوئی نہیں۔پہلے تو یہ ہوا کرتا تھا کہ نمازوں کے اوقات مساجد میں الگ الگ ہوا کرتے تھے اور پوری طرح پتہ نہیں چلتا تھا۔پچھلے سال سے نظارت اصلاح وارشاد کو میں نے تاکید کی تھی کہ جلسے کے ایام میں سارے