خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 642
خطبات طاہر جلد ۲ 642 خطبه جمعه ۲۳ دسمبر ۱۹۸۳ء اس لئے دوست بھی ان کی گالیوں کے مقابل پر دعائیں دینی شروع کریں کہ اللہ آپ کو ہدایت دے، اللہ آپ پر رحم کرے، اگر آپ عمداً ایسا کر رہے ہیں تو اللہ ر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کی اصلاح فرمائے اگر پ کی اصلاح فرمائے اگر غلطی سے کر رہے ہیں تو ہدایت دے۔ علی ہذا القیاس کئی قسم کی دعائیں موقع کے لحاظ سے دل سے اٹھتی ہیں وہ آپ ان کو دیں لیکن گالی کا جواب گالی سے ہرگز نہیں دینا۔ کچھ بازاروں کے حقوق گاہکوں سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ دکانداروں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جو گاہک باہر سے آتے ہیں ان کا فرض یہ ہے کہ دکانوں پر بھی جم گھٹا نہ کریں اور وہاں بھی چونکہ مستورات اور مردا کٹھے ہوتے ہیں اس لئے حتی المقدور کوشش کریں کہ مستورات کو پہلے موقع ملے اور اگر ایسی بات ہو کہ ان کو پہلے موقع دینے سے خود اپنے آپ کو موقع ملے ہی نہ یعنی اتنا رش ہو تو پھر دکانوں میں دو حصے مقرر ہو جانے چاہئیں۔ ایک طرف مرد کھڑے ہوں اور ایک طرف عورتیں اور دکانداروں کو اس کا انتظام کرنا چاہئے کہ الگ الگ دونوں قسم کے گاہکوں کو بیک وقت خدمات مہیا کی جائیں ۔ باہر سے آنے والے دوست خود بھی ان باتوں کا لحاظ رکھیں اور دکاندار سے ایسی بات نہ کریں جس کے نتیجہ میں چڑ پیدا ہو اور خواہ مخواہ تو تو میں میں کی نوبت آ جائے ۔ اگر سودا پسند آتا ہے تو لیں اور اگر نہیں پسند آتا تو نہ لیں اور چھوڑ دیں۔ بعض دفعہ گاہک بھی ایسی تلخ کلامی سے پیش آتے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں دکاندار بھی مجبور ہو جاتا ہے اس لئے دکان پر کم وقت ٹھہریں ۔ ضرورت کی چیزیں دیکھیں اگر پسند نہ ہو تو چھوڑ کر چلے جائیں لیکن وہاں بحث نہ کیا کریں اور اگر کوئی شکایت کی بات ہے تو اس کو ضرور انتظامیہ تک پہنچانا چاہئے ۔ بعض دفعہ قیمتوں میں ایک جگہ کے دوسری جگہوں سے اتنے فرق ہوتے ہیں کہ وہ مناسب نہیں لگتے۔ ایک شہر میں مثلاً ایک دکاندار اگر ایک روپیہ منافع لے رہا ہے تو دوسراد کا ندار اگر اسی چیز کے پانچ روپے منافع لے رہا ہے تو عام اقتصادی حالات میں جو کم منافع لینے والا ہے اس کو جزامل جاتی ہے اور جو زیادہ لینے والا ہے اس کو سزامل جاتی ہے کیونکہ اس میں اقتصادی قانون کام کرتے ہیں لیکن جب ربوہ میں یہ واقعات رونما ہوں تو ان کے نتیجہ میں باہر والے یہ تاثر لیتے ہیں کہ یہاں بڑا ہی بے ہنگم انتظام بے ہنگم انتظام ہے اور جو چاہے اور جتنا چاہے داؤ لگانے کی ، داؤ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح لوگ اہل ربوہ کی دیانت پر حملے کرتے ہیں ، طعن دیتے ہیں ، بعض لوگ واقعتہ ان باتوں سے ٹھو کر کھا جاتے ہیں اس لئے جہاں تک گاہکوں کا تعلق ہے ان کا فرض ہے کہ جب وہ اس قسم کی با تیں دیکھیں تو وہ بر وقت منتظم بازار یا افسر صاحب جلسہ سالانہ کو جہاں بھی وہ مناسب سمجھیں کہ بات پہنچاد دینی چاہئے ، وہاں