خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 637 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 637

خطبات طاہر جلد ۲ 637 خطبہ جمعہ ۱۶/ دسمبر ۱۹۸۳ء یہ ہے کہ گردن کا طوق انسان کے لئے سب سے زیادہ ذلیل کن غلامی ہے۔وہ طوق ایسی جگہ کا ہے جہاں سے آپ اس کو آزاد کروا ہی نہیں سکتے۔ٹانگوں کی بیڑیوں سے تو ٹانگیں کاٹ کر بھی نجات ہو سکتی ہے، پاؤں کی بیٹیوں سے نجات ہو سکتی ہے چنانچہ ایسے واقعات ملتے ہیں کہ بعض قیدیوں نے کسی بڑی مصیبت سے بچنے کی خاطر ان کلائیوں کو کاٹ دیا جن پر ہتھکڑیاں تھیں تو ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں۔بعض جانور ہیں جن کی ٹانگیں پھنستی ہیں ان سے متعلق محققین کہتے ہیں کہ وہ خود اپنے دانتوں سے چپا کر اپنی ٹانگ کو کاٹ کر الگ کر دیتے ہیں اور آزاد ہو جاتے ہیں لیکن گردن میں جو طوق پڑ جاتے ہیں ان سے آزادی کی پھر کوئی صورت نہیں ہوسکتی۔پس حضرت محمد مصطفی عملہ اتنے عظیم محسن ہیں ایسے عظیم نجات دہندہ ہیں کہ وہ گردن کے طوقوں سے بھی قوموں کو آزاد کرنے والے ہیں اس لئے پیشتر اس کے کہ وہ طوق بن جائیں آپ اپنی فکر کریں اور یہ بھی آپ کا فرض ہے کہ جن لوگوں کے طوق بن چکے ہیں ان کو آزاد کروائیں۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔ہمارے معاشرے کو ایسا خوبصورت اور حسین بنا دے کہ ہم میں سے ہر ایک کہہ سکے کہ جس طرح میرے آقا نے کہا تھا وَ مَا اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ میں بھی اسی آقا کی بدولت اس کے قدموں کے پیچھے چل کر آج یہ کہ سکتا ہوں وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ مِیری زندگی صاف اور کچی اور واضح ہے۔اگر میں غریب ہوں تو میری غربت تمہارے سامنے ہے۔اگر میں امیر ہوں تو میری امارت تمہارے سامنے ہے میں متکلفین میں سے نہیں ہوں جو تکلیف کر کے ناجائز مصیبتوں میں مبتلا ہو جایا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۱۲ فروری ۱۹۸۴ء)