خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 58
خطبات طاہر جلد ۲ 58 80 خطبه جمعه ۲۸ / جنوری ۱۹۸۳ء ساری دنیا میں غالب کرنے کے بہت وسیع تقاضے ہیں اور یہ بہت بڑا بوجھ ہے جو جماعت احمدیہ کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے۔عیسائی دنیا کو مسلمان بنانا کوئی معمولی کام نہیں لیکن عیسائی دنیا کے اندر جو مزید بگاڑ پیدا ہو چکے ہیں وہ اتنے خطرناک اور خوفناک ہیں کہ ان کی اصلاح کا کام ایک بہت بڑا منصوبہ چاہتا ہے اور بے انتہا ذہنی اور عملی قو تیں اس پر صرف کرنی پڑیں گی۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت عیسائیت کے نتیجہ میں دنیا میں بہت گند پھیل چکا ہے۔کئی قسم کی روحانی بیماریاں جڑیں پکڑ چکی ہیں۔بعض بیماریاں کینسر کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ چاہے تو اصلاح فرمادے لیکن عملاً جہاں تک انسان غور کرتا ہے، انسان کے بس میں ان کی اصلاح نظر نہیں آتی۔اسی طرح دہریت نے دنیا میں جتنا فروغ حاصل کیا ہے اس کی اصل ذمہ داری بھی عیسائیت پر عائد ہوتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے۔كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا (الكيف : ٦) بعض نادان سمجھتے نہیں ، وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا کیا نقصان ہے اگر ہم نے ایک شریک بنالیا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ہم نے اپنا ہی نقصان کیا۔آخر خدا کیوں عیسائیت کے اتنا پیچھے پڑ گیا ہے۔کیوں بار بار یہ کہتا ہے کہ تین خدا بنالئے اور ظلم ہو گیا اور اندھیر نگری ہوگئی تو اسکی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ آج کی تاریخ اور انسانی انحطاط کا تجزیہ کریں تو اکثر بیماریوں کی ذمہ داری عیسائیت پر عائد ہوگی۔وہ سر چشمہ بنتی ہے آج کی ساری بیماریوں کا۔یہ ایک بنیادی حقیقت ہے کہ اگر نظر یہ نا معقول ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں بالآخر جس طرف وہ نظریہ بلانے والا ہے اس پر بھی یقین اٹھ جاتا ہے۔چنانچہ عیسائیت نے دہریت کو جنم دیا ہے، عیسائیت نے اشتراکیت کو جنم دیا ہے، عیسائیت نے بے حیائی کی ہر تحریک کو جنم دیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائیت کا عقیدہ بنیادی طور پر انسانی عقل سے ٹکرا رہا تھا وہ قابل قبول نہیں تھا۔ظاہر ہے جب خدا کی طرف بلانے والے ایک نامعقول بات کی طرف بلانے لگیں تو خدا کی ہستی کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔چنانچہ اس وقت عیسائی دنیا کے وسیع جائزہ سے جو اعداد و شمار مشہور امریکی رسالہ "Time" میں شائع ہوئے ہیں ان سے یہ معلوم ہوا ہے کہ عیسائی کہلانے والوں میں سے صرف ۲۲ فیصد ایسے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہے کہ وہ خدا کی ہستی کے قائل ہیں