خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 629 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 629

خطبات طاہر جلد ۲ 629 خطبه جمعه ۱۶ دسمبر ۱۹۸۳ء چنانچہ حضرت یونس سے متعلق یہی واقعہ بیان ہوا ہے کہ بھری ہوئی کشتی میں سوار تھے کشتی کو صلى الله خطرہ در پیش ہوا تو انہوں نے قرعہ ڈالا کہ اس بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے کیا تدبیر کی جائے، کسے باہر نکالا جائے تو الہی مشیت کے مطابق حضرت یونس کا قرعہ نکل آیا۔ (الصافات: ۱۴۲) تو اب دیکھئے یہاں حلال اور حرام کی بحث نہیں ہے۔ بحث یہ ہے کہ آنحضور ﷺ کی غلامی میں جس شخص کا بھی فرض ہوگا کہ وہ قوم کو بوجھوں سے نجات دے انہیں غیر معمولی مصیبتوں سے بچائے اور یہ دیکھے کہ ان کا کوئی فعل اور کوئی عادت ترقی کی راہ میں حائل تو نہیں ہو رہی اسے اس کا حق ہی نہیں بلکہ اس کا فرض ہے کہ انہیں ان باتوں سے روکے۔ صلى الله پس حضرت مصلح موعودؓ نے جب یہ فعل کیا تو پہلے اجازت دینا بھی جائز تھا پھر روکنا بھی جائز تھا۔ آنحضرت ﷺ کی کامل غلامی میں آپ کے کاموں کو سمجھ کر آپ کے احکامات کی حکمتوں کو عروسه خوب جان کر آپ نے یہ فعل کیا ۔ اب بھی بعض لوگ مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اس کے متعلق کیا حکم ہے کیونکہ مختلف جگہوں پر یہ سوال ہوئے اس لئے مجھے یہ خیال آیا کہ آج آپ کے سامنے اس معاملہ میں بھی تھوڑی سی وضاحت کروں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شادی اور بیاہ ، موت اور غم میں ایک فرق ہے۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ شادی بیاہ کے موقع پر بھی آپ اسی طرح اسی طرز سے اپنے غم کو منائیں جس طرح بیاہ شادی کے وقت خوشی کو مناتے ہیں۔ خوشی انسان کو طبعاً دعوتوں پر بھی آمادہ کرتی ہے، خوشی طبعی طور پر مٹھائی تقسیم کرنے کے ساتھ ایک تعلق رکھتی ہے، دل چاہتا ہے کہ ہم اپنی خوشی میں دوسروں کو بھی شریک کریں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ خوشی کے طبعی اظہار سے ممانعت نہیں لیکن جب یہ رسمیں بن جائیں ، قوم پر بوجھ بن جائیں تو پھر انہیں منع کیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا کہ نیتوں پر دار و مدار ہوتا ہے۔ بعض دفعہ بے تکلفی سے بعض باتیں خود بخودرونما ہو رہی ہوتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ رسم کی شکل اختیار کر جاتی ہیں اور انہیں ان کے کرنے پر غیر اللہ کا خوف مجبور کر دیتا ہے۔ چنانچہ اس مقام پر نہ صرف وہ منع ہو جاتی ہیں بلکہ شرک میں داخل ہونے لگتی ہیں ۔ یہ اس وقت کے امام کا فرض ہے کہ وہ قوم کو لازما ان چیزوں سے روک دے۔ چنانچہ بیاہ شادی کے موقعہ پر جو خاطر مدارات سے روکا گیا اس کی حکمت بیان کرتے