خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 628 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 628

خطبات طاہر جلد ۲ 628 خطبہ جمعہ ۱۶/ دسمبر ۱۹۸۳ء روکیں گے اور روک رہے ہیں کہ جو تمہاری گردنوں کا طوق ثابت ہوسکتی ہیں۔ان آیات کی روشنی میں میں جماعت کو یہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہم پر لازم ہے کہ وقتاً فوقتاً رسم و رواج کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں۔” رسم و رواج“ کا مضمون جیسا کہ میں نے بیان کیا اس آیت کی روشنی میں کچھ ابہام اپنے اندر رکھتا ہے۔بعض چیزیں جائز ہوتی ہیں لیکن بعض حالتوں میں جا کر وہ ناجائز بن جاتی ہیں یعنی جب وہ قوم پر بوجھ بن جائیں۔اس آیت میں رسم و رواج کی فلاسفی بیان فرما دی گئی ہے اور بہت سے ایسے مسائل حل کر دیئے گئے ہیں جو کم نظر اور کم فہم انسان کو ویسے بھی سمجھ نہیں آتے۔مثلاً جماعت میں ایک وقت میں یہ کھلی اجازت تھی کہ بیاہ شادی کے موقع پر جب بچی کو رخصت کیا جاتا ہے تو مہمانوں کی چائے سے تواضع کی جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا نکاح ہوا تو اس موقع پر کھجوریں بھی تقسیم کیں اور چائے سے بھی مہمانوں کی تواضع فرمائی۔تو یہ بات ایک وقت تک جماعت میں رائج رہی۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ مصلح موعودؓ نے حکما منع فرما دیا کہ تم نے آئندہ سے بچیوں کو رخصت کرتے وقت کوئی تواضع نہیں کرنی۔کم فہم لوگ چونکہ اسلام کے حلال اور حرام کو تو شاید سمجھتے ہوں لیکن ان درمیانی چیزوں کو نہیں سمجھتے ، ان بوجھوں کو نہیں سمجھتے جنہیں دور کرنے کے لئے حضرت محمد مصطفی علیہ تشریف لائے تھے۔وہ حیران ہوتے ہیں کہ ایک ہی چیز ہے، ایک ہی جماعت ہے، ایک ہی خلیفہ ہے، اس کی زندگی کے، اس کی خلافت کے ایک دور میں کوئی چیز حلال ہے اور دوسرے دور میں حرام ہو جاتی ہے یہ کیسی عجیب بات ہے۔تو اصل بات یہ ہے کہ اگر کوئی چیز حلال بھی ہواور طیب بھی ہو مگر جب وہ قوم پر بوجھ بنے لگتی ہے تو بوجھ بنے کی وجہ سے اسے اتارا جاتا ہے۔یہ تو ضروری نہیں کہ کوئی زائد بوجھ انسان پر ہو، اگر آپ نے اپنا سامان اٹھایا ہوا ہو تو کون کہہ سکتا ہے کہ آپ نے کوئی ناجائز چیز اٹھائی ہوئی ہے لیکن اگر منزل سے پیچھے رہ رہے ہوں یا یہ خطرہ ہو کہ آپ منزل تک نہیں پہنچ سکیں گے تو آپ اپنی جائز ضرورت کی چیزوں کو بھی اتار کر پھینکنے لگ جاتے ہیں حتی کہ بعض صورتوں میں جب وہ چیزیں بوجھ بن جائیں تو انسانی قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب طوفان آئے تو قرعے ڈالے جاتے ہیں کہ کشتی سے کس کو باہر پھینکا جائے تا کہ باقی لوگ بیچ سکیں۔