خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 627
خطبات طاہر جلد ۲ 627 خطبہ جمعہ ۱۶/ دسمبر ۱۹۸۳ء مانے گا وہ لازماً اپنا نقصان اٹھائے گا جس کا مطلب یہ ہے ( شریعت محمدیہ کے عالمی ہونے کا ایک یہ بھی پہلو ہے ) کہ خواہ کتنا ہی بڑا معاند ہو، مخالف ہو ، آپ کو مفتری گردانے (نعوذ باللہ من ذالک) لیکن تعلیم ایسی ہے جو اپنی قوت اور زور سے منوا سکتی ہے۔جولوگ اس تعلیم سے منحرف ہوں گے، جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ارشادات کو نظر انداز کرتے ہوئے آپ کے بیان فرمودہ حرام پر منہ ماریں گے وہ اپنا نقصان خود کریں گے کیونکہ خبیث چیز لازماً نقصان کرتی ہے۔مثلاً کوئی زہر کھائے اور فخر سے کہے کہ فلاں شخص نے کہا تھا کہ زہر نہ کھاؤ مگر میں اسے نہیں مانتا اس لئے میں کھاؤں گا تو اس کا طبعی نتیجہ یہ نکلے گا کہ زہرا سے نقصان پہنچائے گا۔پس اگر کسی سے فائدہ کی بات کہی جائے مگر وہ فخر سے یہ کہے کہ میں نہیں مانوں گا تم کیا لگتے ہو یہ باتیں مجھ سے کہنے والے؟ تو لا زم وہ اپنا نقصان کرے گا۔پس اس آیت میں شریعت کی حکمتیں بھی بیان فرما دی گئی ہیں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا زبان سے انکار بھی کرو تب بھی تمہیں اختیار نہیں کہ اس کے حکم سے باہر جاؤ، جب باہر جاؤ گے سزا پاؤ گے، جب ایسے افعال کرو گے جس کی اجازت حضور اکرم ﷺ نے نہ دی ہو تو تمہیں نقصان پہنچے گا۔اس آیت کریمہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ حرام اور حلال بیان فرمانے کے بعد و يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلُلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمُ ایک تیسری چیز بیان فرمائی کہ وہ ان کے بوجھ اتارتا ہے اور ان کی گردنوں سے ایسے طوق دور کرتا ہے جنہوں نے انہیں باندھ رکھا تھا۔اس سے مراد حلال اور حرام کے مابین وہ عادتیں ہیں جو قوموں پر بوجھ بن جایا کرتی ہیں اور ان کی ترقی کی رفتار کمزور کر دیا کرتی ہیں اور بعض دفعہ اتنے بڑے بوجھ بن جایا کرتی ہیں کہ ان کی آزادیاں ختم ہو جاتی ہیں۔وہ رسم و رواج کے غلام بن کر رہ جایا کرتے ہیں اس لئے یہ بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان ہے۔یہاں یہ اعلان ہو رہا ہے کہ محمد مصطفی ﷺہ صرف حلال اور طیب کی اجازت نہیں دے رہے، وہ صرف خبیث اور حرام سے منع نہیں فرما رہے بلکہ ان دونوں کے درمیان کچھ ایسی باتیں بھی تم پاؤ گے کہ فی ذاتہ نہ ان کا خبث نظر آئے گا نہ کوئی خاص طیب بات ان میں دیکھو گے۔یہ درمیان کی سرزمین ایسی ہے کہ اس میں بھی تمہارے لئے بعض باتیں مصیبت کا موجب بن سکتی ہیں۔حضرت محمد مصطفیٰ تمہیں ایسے رسم و رواج سے بھی روکیں گے اور روک رہے ہیں اور دیگر ایسی عادات سے بھی