خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 626 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 626

خطبات طاہر جلد ۲ 626 خطبه جمعه ۱۶ر دسمبر ۱۹۸۳ء صلى الله صلى الله کائنات تھے اس لئے جو مقصود ہے اس کا اول و آخر تمام حالتوں پر ایک احسان ہوتا ہے۔آپ کے کچھ احسانات تو ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ بنی نوع انسان تک از خود پہنچ رہے ہیں اور کچھ احسانات ایسے ہیں جن میں بنی نوع انسان پر کچھ ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں کہ اگر وہ آگے بڑھیں گے، ہاتھ بڑھائیں گے تو اس پھل کو پائیں گے جو ان کے لئے حضرت محمد مصطفی امیلی نے کامل اور نہایت شیریں اور مکمل حالت میں پیدا فرمایا ہے اور اگر وہ ہاتھ نہیں بڑھائیں گے تو اپنا نقصان کریں گے۔یہ احسانات جن کا ان آیات میں ذکر ہے جن کی میں نے تلاوت کی ہے یہ دوسری قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔حضور اکرم ﷺ نے کچھ ذمہ داریاں ادا فرمائیں ان میں جو آپ کے ساتھ تعاون کرے گا، جو آپ کی مدد کرے گا ان سے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ کہ صرف انہی لوگوں تک حضرت محمد مصطفی امی ﷺ کا فیض پہنچے گا اور وہی فلاح پائیں گے اور جو اعراض کریں گے اور ان سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے وہ ان ذمہ داریوں میں اسی حد تک ناکام و نامراد رہیں گے جو حضرت محمد مصطفی ملے کے ذریعہ ہم تک پہنچیں۔ان میں سے کچھ تو واضح طور پر حلال اور حرام سے تعلق رکھتی ہیں۔حلال بھی بین اور نمایاں ہے اور حرام بھی بین اور نمایاں ہے اور حضور اکرم علی نے اللہ کے حکم کے ساتھ ہر وہ چیز جو بنی نوع انسان کے لئے فائدہ مند تھی وہ حلال کر دی اور ہر وہ چیز جو اپنے اندر گندگی کا پہلو رکھتی تھی اسے حرام فرما دیا۔حلال کے ساتھ طیب کی شرط بتاتی ہے کہ آپ کی شریعت کا قدم پہلی شریعتوں سے آگے ہے، ان سے بڑھ کر ہے کیونکہ اس سے پہلے کبھی کسی شریعت نے حلال کے ساتھ طیب کی شرط نہیں لگائی تھی۔آپ بے شک مختلف شرائع کا مطالعہ کریں ،مختلف الہی کتب کو غور سے پڑھیں قرآن کریم کے سوا کوئی ایسی کتاب نہیں جو حلال اور حرام کو اس طرح کھول کر اور بعض صفات کے ساتھ باندھ کر بیان کرتی ہے اور طیب کو حلال کے ساتھ اکٹھا کر دینا یہ بتا تا ہے کہ امت محمدیہ کو صرف حلال چیزوں کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ حلال میں سے بھی طیب چیزوں کی تعلیم دی گئی ہے کہ انہیں اختیار کرو۔اسی طرح صرف وہی باتیں حرام کی گئی ہیں جن میں خبث کا پہلو ہے۔ان دو باتوں سے ایک طبعی اور عقلی نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئی شخص حضور اکرم ﷺ پر ایمان لائے یا نہ لائے اگر کوئی شخص اچھی چیزوں کو حلال کر رہا ہو اور بری چیزوں کو حرام کر رہا ہو تو جو اس کی بات نہیں