خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 625
خطبات طاہر جلد ۲ 625 خطبہ جمعہ ۱۶/ دسمبر ۱۹۸۳ء بد رسومات کے خلاف جہاد خطبه جمعه فرموده ۱۶ دسمبر ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت قرآنی تلاوت فرمائی: الَّذِيْنَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَيةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهُهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَتِ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبيثَ وَيَضَعُ عَنْهُمُ اصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِى أُنْزِلَ مَعَةَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الاعراف: ۱۵۸) اور پھر فرمایا : اس آیت کریمہ میں جس کی میں نے تلاوت کی ہے آنحضور ﷺ کے ان عظیم احسانات کا ذکر فرمایا گیا ہے جو آپ نے تمام دنیا پر اور ہر زمانے کے انسان پر قیامت تک کے لئے فرمائے۔گوہر نبی اپنی قوم کے لئے محسن کے طور پر ہوتا ہے لیکن وہ محدود زمانہ پاتا ہے اور محمد ودلوگوں پر احسان کرتا ہے مگر یہ ایک ہی نبی ہے جس کا احسان جغرافیائی وسعتوں میں بھی پھیل گیا اور لامحدود ہو گیا اور سارے عالم کو اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور زمانی وسعتوں پر بھی حاوی ہو گیا۔مستقبل پر تو ہے ہی بعض پہلوؤں سے آنحضرت ﷺ کا احسان ماضی پر بھی ممتد ہو گیا کیونکہ آپ وجہ تخلیق