خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 57

خطبات طاہر جلد ۲ 57 خطبه جمعه ۲۸ / جنوری ۱۹۸۳ء اب سوال یہ ہے کہ سوا تین لاکھ کے مقابل پر ہمارے سود وسو یا تین سو مبلغ کس طرح نبرد آزما ہوسکیں گے؟ اس کا علاج قرآن کریم نے بیان کر دیا ہے اور یہ کیسا آسان اور کیسا پاکیزہ علاج ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم بلا ؤ اور عمل صالح کے تقاضے پورے کرو اور عمل صالح کے تقاضوں میں یہ بات داخل کر دی ہے کہ انسان نفوس کی قربانی بھی دے اور اموال کی قربانی بھی دے بلکہ مسلمان کی شرط میں یہ داخل کر دیا کہ دعوت الی اللہ کرنے والا ہو۔اس سے زیادہ کھول کر اور کیا بات کی جاسکتی ہے۔گویا یہ آیت یہ کہہ رہی ہے کہ تم اسلام کا بے شک دعوی کرو تمہیں کوئی نہیں روکتا لیکن اگر ایسے اسلام کا دعوی کرو گے جو خدا کی نظروں میں حسین اسلام ہے بلکہ سب حسنوں سے زیادہ حسن رکھنے والا اسلام ہے تو پھر دعوت الی اللہ لازمی اور پہلی شرط ہے۔پھر دوسری شرط عمل صالح ہے۔پھر اجازت ہے کہ اب کہو کہ ہاں میں مسلمان ہوں۔نہ صرف اجازت ہے کہ بلکہ فرض ہے کہ پھر یہ کہو کہ میں مسلمان ہوں۔غرض مبلغین کی کمی کا علاج ہمیں بتا دیا۔اگر ہر احمدی اپنے آپ کو اول طور پر مبلغ بنالے اور نفس کی قربانی میں سب سے زیادہ اہمیت دعوت الی اللہ کو دے تو آپ کے مبلغوں کی تعدا د ساری دنیا کے عیسائی مبلغوں کی تعداد سے بڑھ جاتی ہے۔بعض جگہ ایک ایک ملک میں آپ کے مبلغوں کی تعداد ساری دنیا کے عیسائی مبلغوں کی تعداد سے بڑھ جاتی ہے اور یہ خیال کر لینا کہ مبلغ ہونے کے لئے با قاعدہ جامعہ سے پاس ہونا ضروری ہے، بڑی ہی بیوقوفی اور نادانی ہے، انسان اپنی حیثیت کو نہ پہچاننے کے نتیجہ میں یہ بات سوچتا ہے۔امرواقعہ یہ ہے کہ ہر مسلمان جو میدان جہاد میں داخل ہونا چاہے اس کا سب سے بڑا ہتھیار دعائیں ہیں۔انسان جب اللہ کی طرف بلاتا ہے تو مدد بھی تو اللہ ہی سے مانگتا ہے اسی لئے وہ ہر روز پانچ وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ:۵) پڑھتا ہے کہ اے خدا! میں تیری ہی عبادت کروں گا۔وعدہ کر چکا ہوں ، نیت یہی ہے لیکن اب مدد بھی میں نے تجھے سے مانگنی ہے تو مددگار ہوگا تو حق ادا ہوں گے۔پس دعوت الی اللہ کا سب سے بڑا ہتھیار تو اللہ کی مدد ہے اور دعا ہے۔دعا کے ذریعہ ایک مسلمان جب میدان جہاد میں داخل ہوتا ہے تو ساری دنیا کی طاقتیں اس کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتیں اس لئے تمام دنیا کے احمدیوں کو میں اس اعلان کے ذریعہ متنبہ کرتا ہوں کہ اگر وہ پہلے مبلغ نہیں تھے تو آج کے بعد ان کو لازماً مبلغ بنا پڑے گا۔اسلام کو