خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 620
خطبات طاہر جلد ۲ 620 خطبه جمعه ۹ / دسمبر ۱۹۸۳ء از خود اس کو کسی کے سپرد کرنا تھا اس کے لئے آپ نے اس شخص کو چنا جس کے خاندان کو چابیاں رکھنے کا اعزاز حاصل تھا۔(تفسیر ابن جریر طبری جلد ۵ صفحه ۴۵ زیر آیت ان الله يامركم أن تؤدوا الامانة) پس اس آیت کی شان نزول تو حضرت محمد مصطفی ﷺ سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ عثمان بن ابی طلحہ سے۔آنحضرت مہ خود بھی امانت کے انتہائی اعلیٰ مقام پر فائز تھے اور اپنے غلاموں کی بھی اسی رنگ میں تربیت فرمائی یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی امانت کے حق اور اس کی باریک راہوں کو سمجھنے لگ گئے۔چنانچہ حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ کھیل رہا تھا آنحضرت نے مجھے کسی کام کے لئے بھجوا دیا ، میں جب ذرا تاخیر سے گھر آیا تو میری ماں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بات ہے آج تم گھر تاخیر سے آئے ہو تو میں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے مجھے کسی کے پاس پیغام دے کر بھجوایا تھا اس لئے مجھے دیر ہو گئی تو اماں نے پوچھا کیا بات تھی آپ نے کہا میں تمہیں کیوں بتاؤں یہ تو میرے آقا محمد مصطفی ﷺ کی امانت ہے۔مجھے تو حضور نے اجازت نہیں دی کہ میں تجھے بتاؤں۔ماں نے کہا ہاں بیٹے کسی کو بھی نہ بتانا اسی طرح امانت کے حق ادا ہوتے ہیں۔( صحیح مسلم کتاب الفصائل۔باب فضائل انس بن مالک) پس کتنی بار یک تعلیم تھی اور کتنا گہرا اثر چھوڑا ہے اپنے غلاموں پر کہ بچے بھی امانت کے راز سمجھ گئے اور امانت ایسے عظیم الشان مقام پر پہنچی کہ اس سے پہلے تاریخ میں دنیا نے کبھی ایسے امین نہیں دیکھے تھے اور یہ اثر بڑی دیر تک امت مسلمہ میں جاری رہا۔گین ایک مشہور مورخ ہے۔وہ ایک مسلمان بادشاہ کی امانت کے اس معیار کا ذکر کرتے ہوئے حیرت کے ساتھ اپنا سر جھکا لیتا ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے امت میں پیدا کیا تھا۔وہ اس بات کا واضح طور پر ذکر کرتا ہے اور لکھتا ہے کہ یہ جو میں واقعہ بیان کر رہا ہوں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ محمد (ﷺ) نے امانت پر اتنا زور دیا ہے اور امت کو امانت کی ایسی باریک راہوں پر چلایا ہے کہ یہ اسی کا فیض تھا کہ سینکڑوں سال بعد یہ واقعہ رونما ہوا۔الپ ارسلان کا بیٹا ملک شاہ جب بادشاہ بنا تو چونکہ اس کے والد ایسے وقت میں گزر گئے جبکہ اس کی عمر ابھی چھوٹی تھی تو شریکوں نے اور رشتہ داروں نے اپنی اپنی جگہ حکومتوں کے اعلان کرنے شروع کر دیئے جس سے ملک میں ایک عام بغاوت کی فضا پیدا ہو گئی۔اس وقت ان کا ایک مشہور وزیر طوسی چونکہ شیعہ تھا اس نے ان کو کہا کہ کیوں نہ ہم امام موسیٰ رضا کی قبر پر چلیں اور وہاں دعا کریں اس دعا کا خاص اثر ہو گا۔ملک شاہ نے یہ بات مان لی۔وہ دونوں