خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 619
خطبات طاہر جلد ۲ 619 خطبه جمعه ۹ / دسمبر ۱۹۸۳ء میں پیش کیا گیا تو آپ نے خانہ کعبہ کی چابیاں ان کے سپر دفرما ئیں کیونکہ وہ اس خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کے سپرد پہلے خانہ کعبہ کی دربانی کا فریضہ تھا۔چنانچہ مفسرین لکھتے ہیں کہ گویا یہ آیت حضرت عثمان بن ابی طلحہ کے حق میں نازل ہوئی تھی اور اس آیت کی رو سے آنحضرت ﷺ نے ان کو چابیاں پکڑا دی تھیں۔( تفسیر ابن جریر طبری زیر آیت ان اللہ یا مرکم ان کو دوا الا مانات الی اھلھا ) حالانکہ اس آیت کا اصل منشا کچھ اور ہے۔وہ ان کے ذہن میں نہیں آیا۔اصل واقعہ یہ ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کا مقصد اعلی یہ تھا کہ اس میں حضرت محمد مصطفی عملے اللہ کی عبادت کریں کیونکہ خدا کی خاطر بنائے گئے گھروں میں سے سب سے اعلیٰ اور سب سے افضل خانہ کعبہ تھا اور اس کی شان مکینوں سے تھی نہ کہ عمارت سے ، عمارت کی ظاہری شان تو کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔یہ وہی خانہ کعبہ تھا جس میں سینکڑوں بت اکٹھے ہو گئے تھے اور جس میں ایسے گندے اور عشقیہ اشعار پر مشتمل قصیدے لٹکائے ہوئے تھے جن کو کوئی انسان کسی شریف مجلس میں پڑھ کر سنا بھی نہیں سکتا۔پس اس عمارت کی شان تو اس کے مکینوں سے تھی۔اسے تو خدا کے انبیا ء نے شان بخشی جو خدا کی خاطر اس گھر میں آیا کرتے تھے اور اس کی عبادت کیا کرتے تھے۔یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے جنہوں نے پہلے اس عمارت کو شان بخشی ، پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے جنہوں نے اس کوشان بخشی لیکن ابھی تک اس کا مقصد اعلی پورا نہیں ہوسکا تھا اور جس مقصد کی خاطر یہ عمارت تعمیر ہوئی وہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بعثت کے ساتھ پورا ہونا تھا تب خانہ کعبہ کی چابیاں حضور کے سپرد کی جانی تھیں۔پس اللہ تعالیٰ یہ خوشخبری دے رہا تھا کہ آج وہ دن ہے جب کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کا مقصد پورا ہورہا ہے، دیکھو! یہ گھر اس کے سپرد کیا گیا ہے جس کی خاطر بنایا گیا تھا۔اس سے آنحضرت ﷺ کی ایک عجیب شان ظاہر ہوتی ہے اور قطاع ثم آمین کی تفسیر اس طرح ہمیں معلوم ہوئی کہ جب کامل طور پر آپ کو مطاع بنادیا گیا اور جب بیت اللہ آپ کے سپر د کر دیا گیا تو پھر بھی آپ نے امانت کی ایسی باریک راہوں کو اختیار فرمایا کہ بطور انعام اور بطور عطا خانہ کعبہ کی چابیاں اس شخص کے سپرد کر دیں جس کے خاندان میں پہلے بھی چابیاں ہوتی تھیں اور یہ بطور حق نہیں تھا بلکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان امانت کی انتہا ہے کہ جب خدا نے خانہ کعبہ آپ کے سپرد کر دیا تو پھر آپ نے