خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 618 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 618

خطبات طاہر جلد ۲ 618 خطبه جمعه ۹/ دسمبر ۱۹۸۳ء ہے لیکن جب دشمن کے ظلم سے تنگ آ کر اپنے رب کو یاد کرتے ہیں تو اس وقت رحمان اور رحیم کی بجائے قہار کا لفظ آپ کے ذہن میں جلدی آتا ہے کیونکہ یہ ایک طبعی بات ہے۔پس روح الامین کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دوسروں کے لئے امین نہیں تھا۔وہ تو ایک صفت لازمہ ہے اور مراد یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی عملے پر جب نازل ہوا تو درجہ خاص کی صفت امانت نے اپنے جلوے دکھائے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی اپنی تفسیر کبیر میں اس آیت پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس خصوصی ذکر سے مراد یہ تھی کہ جیسی حفاظت اس کلام کو ملے گی ویسی کبھی کسی اور کلام کو نہیں دی گئی یعنی نزول کے وقت کی حفاظت تو سب کو حاصل ہوتی ہے لیکن ان معنوں میں حفاظت کہ لفظی حفاظت بھی اس کو عطا ہو اور اس کے معانی کی حفاظت کا بھی مستقلاً انتظام کیا جائے روح الامین کے نازل ہونے سے متعلق یہ پیشگوئی تھی۔چنانچہ آنحضور ﷺ کا مقام بلحاظ امانت جتنا بلند ہوتا چلا جاتا ہے اسی قدر آپ کے غلاموں کی ذمہ داریاں بھی ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہیں۔مطاع ثم آمین کا ایک بہت ہی پیارا اظہار اس وقت ہوا جب فتح مکہ کے وقت خانہ کعبہ کی چابیاں آنحضرت ﷺ کے سپرد کی گئیں چنانچہ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ( النساء:۵۹) کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اپنی امانتوں کو ادا کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن آنحضرت ے خانہ کعبہ سے باہر تشریف لاتے وقت اس آیت کی تلاوت فرمارہے تھے۔اس سے پہلے کبھی آنحضور ﷺ کے منہ سے اس کی تلاوت نہیں سنی گئی یعنی اسی وقت نازل ہوئی۔مفسرین اس کی شان نزول یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! اب آپ ہمارے پانی پلانے کے اعزاز کے ساتھ اس اعزاز کو بھی ملا دیں۔یعنی ہم خانہ کعبہ کے دربان بھی شمار ہوں اس سے پہلے پانی پلانے کا اعزاز الگ خاندان کو حاصل تھا اور خانہ کعبہ کی دربانی کا اعزاز الگ خاندان کو لیکن حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ان کی اس درخواست کی طرف توجہ نہ فرمائی اور پوچھا کہ عثمان بن ابی طلحہ کہاں ہے؟ جب ان کو آنحضور کی خدمت اقدس