خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 617 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 617

خطبات طاہر جلد ۲ 617 خطبه جمعه ۹ / دسمبر ۱۹۸۳ء العباد کی ادائیگی میں درجہ کمال کو پہنچے کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ضمناً اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح انگریزی کا محاورہ ہے Absolute power corrupts absolutely یعنی جب اقتدار کامل ہو جائے ، کسی کے ہاتھ میں مکمل اختیار آ جائے تو اتنا ہی کامل طور پر وہ بددیانت اور بداخلاق ہو جاتا ہے۔کیونکہ کلی اختیارات ایسی ڈکٹیٹر شپ کو پیدا کرتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان اپنے آپ کو انسانی حقوق اور ان کے خیالات سے، انسانی احساسات اور ان کی ضروریات سے مبرا سمجھنے لگ جاتا ہے اور اسی شدت کے ساتھ جس شدت کے ساتھ اسے طاقت ملتی ہے وہ بداخلاق اور بددیانت ہو جاتا ہے لیکن قرآن نے اس کے بالکل بر عکس مضمون بیان فرمایا ہے۔جس میں دنیا کے اقتدار اور دنیا کی حکومتوں سے مختلف تصور پیش فرمایا ہے اور صرف تصور ہی نہیں بلکہ ایک کامل نمونہ کی شکل میں اس کو حقیقت بنا کر دکھا دیا۔فرمایا عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكَيْنِ صاحب عرش کا نمائندہ ہے،اس کے حضور حاضر ہے۔اس سے بڑا اقتدار دنیا میں کسی کو نصیب نہیں ہوسکتا کہ وہ تمام کائنات کے مالک خدا کی نظر میں اتنا قریب ہو جائے ، اتنا پیارا ہو جائے کہ گویا ہر وقت اس کی آنکھ کے سامنے اور اس کے قرب میں رہتا ہے قطاع اور اس کی طرف سے مُطَاع بنا دیا گیا ہے، تمام عالم کو اس کا مطیع کر دیا گیا۔ثُمَّ امین اس کو تمام عالم کا مطاع اور امیر مقر فرما دیا گیا ہے پھر بھی دیکھو کیسا امین ہے۔کتنی بار یکی اور لطافت کے ساتھ تمہارے حقوق ادا کر رہا ہے۔امانت کا حق اپنے رب کی طرف سے بھی ادا کر رہا ہے اور بنی نوع انسان کی طرف سے بھی ادا کر رہا ہے۔قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کو بطور امین جو دوسرا امتیاز بخشا ہے وہ یہ ہے کہ اگر چہ روح القدس ہر نبی پر ظاہر ہوتا رہا اور وہ امین بھی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا تمام انبیاء امین ہیں روح القدس بھی امین ہے اس کا نام روح الامین رکھا گیا ، لیکن کسی اور نبی کی وحی کے ساتھ روح القدس کے علاوہ روح الامین کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔یعنی روح القدس کا نازل ہونا تو ملتا ہے لیکن روح الامین کا کہیں ذکر نہیں ملتا اور جب کسی شخص کی خاص صفت کو نمایاں طور پر بیان کیا جاتا ہے تو مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ بدرجہ خاص پوری ہو گئی۔چنانچہ جب آپ خدا سے دعا کرتے ہیں اور رحم کی التجا کرتے ہیں تو اس وقت یہ تو نہیں کہتے کہ اے قہار خدا ہم پر رحم فرما۔اس وقت رحمان اور رحیم ہی یاد آتا