خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 616
خطبات طاہر جلد ۲ 616 خطبه جمعه ۹ / دسمبر ۱۹۸۳ء بنائے بلکہ امین ہونا نبوت کے لئے شرط اول ہے۔جب تک کوئی امین نہ ہو اللہ تعالیٰ نبوت اور رسالت کی امانت اس کے سپرد نہیں فرما تا لیکن قرآن کریم کے مطالعہ سے آنحضرت ﷺ کی خصوصی شان دو پہلوؤں سے نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔اول یہ کہ قرآن کریم میں جہاں جہاں بھی انبیاء کے امین ہونے کا ذکر ہے وہاں یا تو انبیاء نے خود اپنی قوم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ دیکھو! ہم امین ہیں اور جب دنیا کے معاملات میں امین ہیں اور تم جانتے ہو کہ ہم امین ہیں تو خدا کے معاملہ میں ہم کیسے امانت میں خیانت کر سکتے تھے۔دوم یہ کہ قوم نے ان کو امین کہا اور دوسروں نے ان کے حق میں گواہی دی کہ یہ امین ہیں لیکن آنحضرت علی کے سوا کسی اور رسول کے متعلق خدا تعالیٰ کی یہ گواہی نہیں ملتی کہ یہ امین ہے۔یہ صرف اور صرف حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو اعزازی مقام حاصل ہے کہ آپ کی امانت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود گواہی دی کہ یہ امین ہے چنانچہ جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے۔ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينِ مُطَاع ثُمَّ أَمِينٍ کہ دیکھو! یہ قول جو قرآن کریم کی صورت میں تم سن رہے ہو یہ ایک ایسے رسول کا قول ہے جو صاحب قوت ہے اس کو غیر معمولی قولی بخشے گئے ہیں۔عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِينِ اس کا مقام آسمان پر خدائے ذوالعرش کے نزدیک بہت بلند ہے۔آسمان کا لفظ عرش کا صحیح تر جمہ تو نہیں ہے یوں کہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے قریب تر اس کا مقام ہے، گویا بلند ترین مقام پر فائز ہے۔قطَاعِ ثُمَّ آمِین اس کی شان یہ ہے کہ یہ کامل طور پر مطاع بنایا گیا۔تو آمین ہر پہلو سے، ہر لحاظ سے تمام دنیا کو اس کا مطیع بنادیا گیا ہے اس مقام پر فائز ہونے کے باوجود، اس عظیم الشان قوت کے مقام کو حاصل کرنے کے باوجود پھر بھی یہ امین ہے یعنی عِندَ ذِی الْعَرْشِ مَکین ہونے کے لحاظ سے اللہ کی امانت کا حق بھی پوری طرح ادا کر رہا ہے اور لوگوں کا مطاع بننے کے باوجود عرش کے رب کی طرف سے اس کو کلی اختیارات سونپے گئے ، اس کا ہو کر تم میں نازل ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک رنگ میں اس کو مالکیت کے حقوق عطا کئے گئے اس کے باوجود تم سب کی امانتوں کا بڑی تفصیل سے خیال رکھنے والا ہے یعنی اس میں حقوق اللہ اور حقوق