خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 615 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 615

خطبات طاہر جلد ۲ 615 خطبه جمعه ۹/ دسمبر ۱۹۸۳ء آنحضرت کی صفت امین ( خطبه جمعه فرموده ۹ / دسمبر ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشهد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُوْلِ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ لِكَرِيمِن مَكِينٍ مُطَاعٍ ثُمَّ اَمِيْن ( النور :۲۰ اور پھر فرمایا: گزشتہ خطبہ جمعہ میں میں نے امانت سے متعلق کچھ بیان کیا تھا لیکن یہ مضمون اتنا وسیع ہے کہ تمام شریعت پر حاوی ہے۔یہ ایسی بنیادی صفت ہے جس سے حقیقت میں شریعت کا مضمون پھوٹتا ہے اور دونوں پہلوؤں سے اس کا تعلق ہے یعنی حقوق اللہ سے بھی اور حقوق العباد سے بھی۔یہ مضمون چونکہ بہت وسیع تھا اس لئے مجھے خیال آیا کہ ایک خطبے کی بجائے دو خطبوں میں کچھ اس کے متعلق بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔اس دوران الفضل میں بعض بڑے اچھے مضامین شائع ہوئے جنہوں نے میرے کام کو آسان کر دیا اور اس مضمون کو سمیٹ دیا۔بہت سی احادیث ہیں جن کا اس مضمون کے ساتھ تعلق تھا وہ الفضل میں شائع ہو چکی ہیں۔جماعت نے ان سے یقیناً استفادہ کیا ہوگا۔میں نے گزشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا کہ آنحضور ﷺ امانت میں بلند ترین مقام پر فائز تھے۔اگر چہ ہر نبی کو امین ہونا لازم ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ کسی کو رسول بنائے اور امین نہ