خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 608
خطبات طاہر جلد ۲ 608 خطبه جمعه ۲/ دسمبر ۱۹۸۳ء سارے امانت میں کمی سے تعلق رکھنے والے جھگڑے ہیں۔کسی نے کسی سے شراکت کی اور شراکت کے دوران امانت کا حق ادا نہ کیا، کسی نے کسی کے سپرد کوئی جائیدا دیا کوئی کام کیا تو اس نے وہاں امانت کا حق ادا نہ کیا ، کسی نے بیوی کی امانت کا حق ادا نہ کیا تو کسی بیوی نے خاوند کی امانت کا حق ادانہ کیا،غرضیکہ سارے قضا کا خلاصہ یہ ہے کہ جتنے جھگڑے وہاں پہنچتے ہیں ان میں سے ایک نہ ایک فریق لازماً امانت کے معیار سے گرا ہوا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں فریق گرے ہوئے ہوں۔مقدموں میں یہ ضروری نہیں ہوا کرتا کہ سارا قصور ایک ہی فریق کا ہو لیکن جب کوئی مقدمہ قضا میں پہنچتا ہے تو یہ قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ امانت کا معیار گرا ہوا ہے اور جتنے زیادہ مقد مے قضا میں پہنچیں گے اتنی ہی زیادہ الارم کی گھنٹیاں بجیں گی اور اتنا ہی زیادہ خوف پیدا ہوگا۔پس وہ جماعت جسے تمام دنیا کے لئے امین بنایا گیا ہے اگر وہ اپنے لئے ہی امین نہ ہو تو وہ کس طرح اس حق کو ادا کرے گی۔آپ امین ہیں ،صرف اموال میں نہیں ، صرف دنیاوی حقوق میں نہیں بلکہ آپ شریعت کے بھی امین ہیں ، آپ ساری دنیا کے حقوق کے امین ہیں۔جماعت احمدیہ پر آنحضرت علم کی نمائندگی کا حق ادا کرنے کی اتنی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کے خوف سے تو انسان کو لرزتے رہنا چاہئے۔ہرگز بے فکری اور بے خوفی کا مقام نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ امانت کے معاملہ میں جتنا زیادہ خوف رکھیں گے، جتنا زیادہ خدا سے ڈریں گے اتنا ہی زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے خوفی عطا ہوگی۔اللہ تعالیٰ کا نام اگر چہ امین نہیں مگر مومن ہے۔مومن کے کیا معنی؟ مومن کے معنی یہ ہیں کہ جس سے کسی دوسرے انسان کو کوئی خوف لاحق نہ ہو۔ایک پہلو سے اللہ مومن ہے اور ایک پہلو سے انسان مومن ہے اور ان دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔انسان مومن تب بنتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کو اس بارے میں مطمئن کر دے کہ خدا تعالیٰ کو اس سے بغاوت کا احتمال نہ رہے، عصیان اور نافرمانی کا احتمال نہ رہے۔یعنی بحیثیت انسان مومن وہ کہلائے گا جس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو اور جس سے خدا تعالیٰ کو یہ امن حاصل ہو جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات میں کوئی رخنہ پیدا نہیں کرے گا۔اللہ تعالیٰ کی امانت نہیں کھائے گا بلکہ اس کی امانت کو جس طرح اس نے پسند فرمایا ہے اسی طرح ادا کرے گا۔کوئی مومن ہو ہی نہیں سکتا جب تک