خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 607 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 607

خطبات طاہر جلد ۲ 607 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۳ء امانت سے مراد نہ صرف روپے پیسے جو دیئے جاتے ہیں وہ ہیں بلکہ ہر انسان کی عزت بھی دوسرے کے پاس امانت ہے، ہر انسان کے حقوق دوسرے کے پاس امانت ہیں اور اس پہلو سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو رائی بنا دیا ہے۔اگر آپ ان معنوں میں لفظ ”امانت پر غور کریں کہ حقوق العباد میں امانت کیا شکلیں اختیار کرتی ہے تو تمام حقوق انسانی سے امانت کا تعلق قائم ہو جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: وَالَّذِينَ هُمْ لِاَ مُنْتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رُعُونَ ) (المومنون: ٩) وہ اپنی امانات اور عہدوں پر راضی ہو جاتے ہیں۔راعی کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں: كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ( بخاری کتاب النکاح باب المرأة راعية في بيت زوجها ) کہ تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔یعنی امانت کی جو تفصیل پہلے بیان کی گئی ہے وہ اس حدیث سے بالکل مطابقت رکھتی ہے۔امانت اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو اپنی نہ ہو کسی غیر کی ہو اور رعیت اسے کہتے ہیں کہ امانت کے حقوق اس طرح ادا کئے جائیں کہ جو مالک ہے اسے اعتراض نہ ہو سکے اس کی عین مرضی کے مطابق امانت خرچ کی جائے۔تو فرمایا کہ تم مالک نہیں ہو اس دنیا میں تم امین ہو اور ایسے امین ہو کہ جسے پوچھنے والا زندہ موجود ہے اور جس کا پوچھنے والا صاحب اقتدار ہے ورنہ دنیا میں انسان بعض دفعہ کسی اور کا امین ہو جاتا ہے۔فرض تو اس کا ہے کہ امانت کا حق ادا کرے لیکن امانت دینے والا مر جاتا ہے یا اس سے کمزور ہوتا ہے اس کا کچھ بس نہیں ہوتا اگر کوئی خیانت بھی کرے تو وہ زبردستی اپنے حقوق نہیں لے سکتا۔اس فرق کو ظاہر کرنے کے لئے کہ ہم کس کے امین ہیں، آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ تفصیل فرمائی کہ دھون میں جو خدا تعالیٰ نے اس طرف متوجہ فرمایا ہے کہ تم اپنی امانتوں کے راعی ہو اور ایسے رائی ہو جو مسئول ہو۔تم سے لازماً یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ امانتیں کس طرح ادا کیں؟ جب ہم امانت کے مضمون کو عام لین دین کے معاملات میں دیکھیں تو یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ اس چھوٹے سے مفہوم میں بھی ابھی بہت اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔قضا میں جتنے جھگڑے آتے ہیں وہ