خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 598
خطبات طاہر جلد ۲ 598 خطبه جمعه ۲۵ / نومبر ۱۹۸۳ء ہو۔اس کے بعد ایک عجیب نصیحت فرمائی ہے یا مومن سے ایک خاص توقع رکھی ہے فرماتا ہے : هَانْتُمْ أُولَاء تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ (آل عمران :۱۲۰) کہ ان دشمنیوں کے باوجود ہم یہ ساری باتیں تمہیں کھول کر بتا رہے ہیں۔جس طرح ہم ان کے دلوں کا حال جانتے ہیں اسی طرح تمہارے دلوں کا حال بھی جانتے ہیں۔تم تو عجیب مخلوق ہو۔حضرت محمد مصطفی ﷺ نے عام انسانوں کی ایک الگ تخلیق کر دی ہے، تم خلق آخر بن چکے ہو۔تمہاری یہ کیفیت ہے کہ ہم گواہی دے رہے ہیں کہ یہ جانتے ہوئے کہ وہ تم سے محبت نہیں کرتے پھر بھی تم ان سے محبت کر رہے ہو۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نعوذ باللہ من ذالک گویا خدا تعالیٰ نے منع کیا ہے کہ ان سے محبت نہیں کرنی چاہئے تم تو ان سے محبت کرتے ہو حالانکہ وہ تم سے محبت نہیں کرتے ، یہ مضمون ہر گز نہیں کیونکہ ساتھ ہی یہ فرمایا ہے۔وَتُؤْمِنُوْنَ بِالکتب گلّہ تمہاری یہ کیفت اس وجہ سے نہیں کہ خدا تعالیٰ کے بعض احکام پر تمہاری نظر ہے اور بعض پر نہیں ہے یہ کیفیت پیدا ہی ان دلوں میں ہوتی ہے جو کلیتہ کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور کسی آیت کی ایک زیر زبر میں بھی فرق نہیں کرتے۔ساری کتاب سارے احکام الہی سارے اوامر اور تمام نواہی پر نظر رکھنے کے بعد پھر ان کا دل جو شکل اختیار کرتا ہے وہ یہ ہے کہ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ تمہاری عجیب حالت ہے تم ان سے محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت نہیں کرتے۔یہاں پہنچ کر ایک اور بات بھی بڑی کھل کر روشن ہو جاتی ہے کہ ایمان کے دعوے تو سب کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم مومن ہیں اور دوسرا نہیں لیکن اللہ نے اس کی علامتیں اتنی مشکل رکھ دیں کہ ہر وہ دعویدار جو اپنے دعوئی میں سچا نہیں ہے وہ ان کو اختیار کر ہی نہیں سکتا۔چنانچہ ایک سچے مومن کی یہ علامت بتائی کہ وہ غیر سے نفرت نہیں کرتا باوجود اس کے کہ دشمن شدید گالیاں دیتا ہے اور مخالفت میں اپنے بد ارادوں کو کھلم کھلا ظاہر کرنے لگ جاتا ہے اور جو ان کے دلوں میں ہدارا دے ہوتے ہیں وہ ان سے بھی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں یہ ساری باتیں بیان کرنے کے معا بعد فرماتا ہے اے محمد ( ﷺ ) یہ ساری باتیں سن چکے ہو اب میں بتاتا ہوں کہ تمہارے اور تمہارے ماننے والوں کی کیا کیفیت ہے۔فرماتا ہے تمہارے دلوں کی کیفیت یہ ہے کہ دشمن کی ساری باتوں کے باوجود تم ان سے