خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 595 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 595

خطبات طاہر جلد ۲ 595 خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۸۳ء بعض ایسی (Democracies) جمہور تیں ہیں جو عظیم الشان طاقتیں ہیں۔اتنی عظیم الشان طاقتیں ہیں کہ وہ دنیا کی چوٹی کی طاقتوں میں شمار ہوتی ہیں لیکن جب لوگوں کا خوف ان کے سر پر سوار ہوتا ہے تو ان کے راہنما نہایت بے طاقت اور بے حیثیت ہو کر رہ جاتے ہیں۔وہ شکوے بھی کرتے ہیں، وہ دیکھتے ہیں کہ ہمیں غلط فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود کچھ نہیں کر سکتے۔چنانچہ امریکہ کے سابق صدرجمی کارٹر نے اپنے ہم عصر را ہنماؤں کے متعلق ایک بڑی دلچسپ کتاب لکھی ہے اس میں وہ امریکہ کے لیڈروں کی بے اختیاری کا ذکر کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس خوف کی وجہ سے کہ امریکی عوام الناس کی رائے عامہ کس طرف جارہی ہے، اگر ہم نے اس کے خلاف کوئی فیصلہ کیا تو ہمارا کیا حشر ہوگا ، امریکہ کے بہت سے پریذیڈنٹ یہ سمجھتے ہوئے بھی کہ ان کا یہ فیصلہ امریکی مفاد کے خلاف ہے وہ پھر بھی فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔(Keeping Faith-Memories of a President) اس کے مقابل پر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کو نہ خدا کا خوف ہے اور نہ بندوں کا ، وہ اس لحاظ سے بہتر ہیں کہ جو بھی فیصلے کرتے ہیں وہ عوام الناس سے ڈر کر نہیں کرتے ، وہ اپنے ملک کے مفاد میں جو بہتر سمجھتے ہیں اس کا فیصلہ کر جاتے ہیں۔چنانچہ کا رٹر کے نزدیک اشترا کی دنیا اسی قسم میں داخل ہے۔وہ کہتے ہیں اشتراکی ممالک میں کامل ڈکٹیٹر شپ ہونے کی وجہ سے رائے عامہ کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی کیونکہ وہاں رائے عامہ کوکوئی طاقت حاصل نہیں ہے جب چاہیں کچل دیں، جس طرف چاہیں رائے عامہ کا رخ موڑ دیں۔رائے عامہ کچھ اور کہے اور یہ کہیں کہ یہ کرنا ہے تو ان کی بات مانی جانی ہے، رائے عامہ کی نہیں سنی جاتی۔اس صورت میں وہ اپنے ملک کے مفاد میں بہر حال فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔ان میں ایک طاقت ہے جو مغربی جمہوریتوں کو حاصل نہیں ہے چنانچہ اس طرح ایک ایسی قسم بھی سامنے آئی جو غیر اللہ کا خوف نہیں کھاتی لیکن اللہ کا خوف بھی نہیں رکھتی ، تاہم ان لوگوں کے بارے میں بھی اگر آپ مزید تجربہ کر کے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ چونکہ اللہ کا خوف نہیں کھاتے اس لئے مثبت امور میں بھی وہ غلط فیصلہ کر جاتے ہیں اور غیروں پر ظلم کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ان کے منفی پہلو یہ بن جاتے ہیں کہ لوگوں کا خوف رکھنے والے تو بہت سے مظالم سے بچ جاتے ہیں اور جولوگوں کا خوف نہیں کھاتے ان کے لئے کوئی راہنما چیز نہیں رہتی۔اسی لئے اپنے فیصلوں میں بعض اوقات انتہائی ظالمانہ فیصلے کرتے ہیں یہاں تک کہ بعض دفعہ اپنی قوم کے خلاف بھی ظالمانہ فیصلے کرتے ہیں۔چنانچہ