خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 594
خطبات طاہر جلد ۲ 594 خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۸۳ء کہ ویسے تو سارے لوگ مسجد میں بناتے ہیں اور بظاہر آباد بھی کر دیتے ہیں لیکن محض وہی لوگ عند اللہ مسجد میں بنانے اور آباد کرنے والے ہیں۔مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں وَ أَقَامَ الصلوۃ اور نماز کو قائم کرتے ہیں وَآتَى الزَّکوۃ اور زکوۃ ادا کرتے ہیں۔اور یہ ساری وہ چیزیں ہیں جو ظاہری اعمال سے تعلق رکھتی ہیں لیکن یہ سارے اعمال قبول صرف اسی صورت میں ہوں گے، اللہ کے نزدیک درجہ تب پائیں گے جب لَمْ يَخْشَ إِلَّا اللہ پر بھی عمل ہو رہا ہوگا۔وہ شخص جو یہ سارے اعمال بجالا رہا ہے، بظاہر مساجد کو بھی آباد کر رہا ہے، نمازوں کی بھی تلقین کر رہا ہے اور زکوۃ بھی وصول کر رہا ہے یا لوگوں کو دینے کی تلقین کرتا چلا جا رہا ہے، نمازیں پڑھتا ہے اور پڑھنے کی تعلیم دیتا ہے، یہ ساری چیزیں بظاہر بہت بڑی نیکیاں ہیں لیکن اگر اس صفت سے عاری ہے یعنی خدا کے سوا کسی اور سے نہ ڈرنے کی صفت اپنے اندر نہیں رکھتا تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سارے اعمال باطل ہو جاتے ہیں فَعَسى أُولَيكَ أنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ صرف وہی لوگ ہیں جو خدا کے نزدیک اس بات کا امکان رکھتے ہیں کہ وہ ہدایت پا جائیں گے اور کامیاب ہو جائیں گے، وہ وہی ہیں جوان ساری باتوں کے ساتھ ساتھ اللہ کا خوف رکھتے ہیں اور غیر اللہ سے نہیں ڈرتے۔اگر اس مضمون پر زیادہ تفصیل کے ساتھ غور کیا جائے تو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ دنیا کی اکثر خرابیاں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تمام خرابیاں خواہ وہ کسی جگہ کسی شکل میں سر نکال رہی ہوں کیوں پیدا ہو رہی ہیں تو اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اللہ کا خوف نہیں کھاتے اور غیر اللہ سے ڈرتے ہیں۔دنیا میں اس وقت جتنے غلط سیاسی فیصلے ہو رہے ہیں اور جتنی بڑی تباہیاں آ رہی ہیں ان سب کا تجزیہ کر کے دیکھیں تو یہیں آکرتان ٹوٹے گی۔چنانچہ بعض ملک اس لئے کہ اپنے ملک کے لوگوں کے خیالات سے ڈر رہے ہیں یہ فیصلے کر لیتے ہیں کہ فلاں ملک پر حملہ کر دیں تا کہ لوگوں کی توجہ بٹ جائے۔اس سے جتنا فساد پھیلے گا ، جتنا خون ہوگا ، جتنے مظالم ہوں گے اور جتنا انسان دکھ اٹھائے گا اس کا ان کو خیال نہیں ہوتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کا خوف نہیں ہوتا اور لوگوں سے ڈرتے ہیں اور لوگوں کے خوف بعض دفعہ آنکھیں کھول کر دیکھنے کے باوجود قومی راہنماؤں کو غلط فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور جتنا یہ خوف بڑھتا چلا جاتا ہے راہنماؤں کی اتنی ہی بے اختیاری بڑھتی چلی جاتی ہے۔چنانچہ دنیا میں